ترجمہ و تفسیر — سورۃ لقمان (31) — آیت 8

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ ۙ﴿۸﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے اُن کے لئے نعمت کے باغ ہیں
En
بیشک جن لوگوں نےایمان قبول کیا اور کام بھی نیک (مطابق سنت) کیے ان کے لئے نعمتوں والی جنتیں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8){ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} لہو الحدیث کے خریدار بد نصیبوں اور ان کی جزا کے ذکر کے بعد ایمان اور عمل صالح والے خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا کہ ان کے لیے نعمت کے باغات ہیں، جن میں نعمت ہی نعمت ہو گی، کسی قسم کی زحمت یا تکلیف یا رنج و غم نہیں ہو گا، جب کہ دنیا کا کوئی باغ یا کوئی نعمت ایسی نہیں جس کے ساتھ کوئی زحمت یا رنج و غم نہ ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے نعمتوں والے باغ ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ تعالٰی کے وعدے ٹلتے نہیں ٭٭
نیک لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے کہ ’ جو اللہ پر ایمان لائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے رہے شریعت کی ماتحتی میں نیک کام کرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن میں طرح طرح کی نعمتیں، لذیذ غذائیں، بہترین پوشاکیں، عمدہ عمدہ سواریاں، پاکیزہ نوارنی چہروں والی بیویاں ہیں۔ وہاں انہیں اور ان کی نعمتوں کو دوام ہے کبھی زوال نہیں۔ نہ تو یہ مریں نہ ان کی نعمتیں فناہوں نہ کم ہوں نہ خراب ہوں ‘۔
یہ حتماً اور یقیناً ہونے والا ہے کیونکہ اللہ فرما چکا ہے اور رب کی باتیں بدلتی نہیں اس کے وعدے ٹلتے نہیں۔ وہ کریم ہے، منان ہے، محسن ہے، منعم ہے، جو چاہے کرسکتا ہے۔ ہرچیز پر قادر ہے، عزیز ہے، سب کچھ اس کے قبضے میں ہے، حکیم ہے، کوئی کام کوئی بات کوئی فیصلہ خالی از حکمت نہیں۔
«قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ وَالَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ فِي آذَانِهِمْ وَقْرٌوَهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى أُولَـٰئِكَ يُنَادَوْنَ مِن مَّكَانٍ بَعِيدٍ» ’ اس نے قرآن کریم کو مومنوں کے لیے ہادی اور شافی بنایا ہاں بے ایمانوں کے کانوں میں بوجھ ہیں اور آنکھوں میں اندھیرا ہے یہ وه لوگ ہیں جو کسی بہت دور دراز جگہ سے پکارے جا رہے ہیں ‘۔ ۱؎ [41-فصلت:44]‏‏‏‏
اور آیت میں ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» ۱؎ [17-الإسراء:82]‏‏‏‏ یعنی ’ جو قرآن ہم نے نازل فرمایا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالم تو نقصان میں ہی بڑھتے ہیں ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رہی اہل خیر کی بشارت تو اس کے بارے میں فرمایا: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یعنی جنھوں نے عبادت باطن کو ایمان کے ساتھ اور عبادت ظاہر کو اسلام اور عمل صالح کے ساتھ جمع کیا ﴿لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں۔ انھوں نے جو نیک اعمال پیش کیے ان پر خوش خبری اور جو نیک اعمال پیچھے چھوڑے ان پر مہمان نوازی کے طور پر۔ ﴿خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ ان نعمتوں بھری جنتوں میں، جو جسد و روح کے لیے نعمت ہیں، ہمیشہ رہیں گے۔ ﴿وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ جس کی خلاف ورزی اور جس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں ﴿وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُ وہ کامل غلبہ اور کامل حکمت کا مالک ہے۔ یہ اس کا غلبہ اور حکمت ہے کہ اس نے جسے توفیق سے نوازنا چاہا نواز دیا، جسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس سے الگ ہونا چاہا الگ ہو گیا اور یہ سب کچھ ان کے بارے میں اس کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما بشارةُ أهل الخير؛ فقال: {إنَّ الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحاتِ}: جمعوا بينَ عبادة الباطن بالإيمان والظاهر بالإسلام والعمل الصالح، {لهم جناتُ النعيم}: بشارةً لهم بما قدَّموه وقِرىً لهم بما أسلفوه {خالدين فيها}؛ أي: في جنات النعيم نعيم القلب والروح والبدن. {وعد الله حقًّا}: لا يمكن أن يُخْلَفَ ولا يغيَّر ولا يتبدَّل. {وهو العزيزُ الحكيم}: كامل العزَّة، كامل الحكمة، من عزَّته وحكمتِهِ، وَفَّق من وَفَّق، وخَذَل بحسب ما اقتضاه علمُه فيهم وحكمتُه.