اوربلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔ کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بول اُٹھیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان وزمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ، تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے ﻻئق اللہ ہی ہے، لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اگر آپ حق کو جھٹلانے والے ان مشرکین سے پوچھیں: ﴿مَّنْخَلَقَالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضَ ﴾”آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟“ تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ ان کے بتوں نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور وہ بول اٹھتے کہ اللہ اکیلے نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے ﴿قُ٘لِ ﴾ ان کو الزامی جواب دیتے اور ان کے اس اقرار کو ان کے انکار کے خلاف حجت بناتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿الْحَمْدُلِلّٰهِ ﴾”ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے“ جس نے نور کو واضح کر دیا اور خود تمھاری ہی طرف سے دلیل کو ظاہر کر دیا۔ اگر وہ جانتے ہوتے تو انھیں یقین ہوتا کہ وہ ہستی جو کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے وہ استحقاق عبادت اور توحید میں بھی متفرد ہے لیکن ﴿اَكْثَرُهُمْلَایَعْلَمُوْنَ ﴾”ان میں اکثر نہیں جانتے۔“ اسی لیے انھوں نے دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرایا، بصیرت کی بنا پر نہیں بلکہ حیرت اور شک کی بنا پر وہ اپنے مذہب کے تناقض پر راضی ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولئن} سألتَ هؤلاء المشركين المكذِّبين بالحقِّ: {مَنْ خَلَقَ السمواتِ والأرضَ}: لعلموا أنَّ أصنامهم ما خلقتْ شيئاً من ذلك، ولبادروا بقولهم: {اللهُ}: الذي خلقهما وحدَه، فَـ {قُلْ} لهم ملزماً لهم ومحتجًّا عليهم بما أقرُّوا به على ما أنكروا: {الحمدُ لله}: الذي بيَّن النور وأظهر الاستدلال عليكم من أنفسكم؛ فلو كانوا يعلمون؛ لجزموا أنَّ المنفرد بالخَلْق والتدبير هو الذي يُفْرَدُ بالعبادة والتوحيد، ولكن {أكثرَهم لا يعلمونَ}: فلذلك أشركوا به غيره، ورَضُوا بتناقُض ما ذهبوا إليه على وجه الحيرة والشكِّ لا على وجهِ البصيرةِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔