تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿نُمَتِّعُهُمْقَلِیْلًا ﴾”ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں“ اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّنَضْطَرُّهُمْ ﴾” پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے“﴿اِلٰىعَذَابٍغَلِیْظٍ ﴾”ایک سخت عذاب کی طرف۔“ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{نمتِّعُهم قليلاً}: في الدنيا؛ ليزداد إثمهُم ويتوفَّر عذابُهم. {ثم نضطرُّهم}؛ أي: نلجِئُهم {إلى عذابٍ غليظٍ}؛ أي: انتهى في عظمِهِ وكبرِهِ وفظاعتِهِ وألمه وشدَّته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔