تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 24

نُمَتِّعُہُمۡ قَلِیۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّہُمۡ اِلٰی عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۲۴﴾
ہم انھیں تھوڑا سا سامان دیں گے، پھر انھیں ایک بہت سخت عذاب کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے۔ En
ہم اُن کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لیجائیں گے
En
ہم انہیں گو کچھ یونہی سا فائده دے دیں لیکن (بالﺂخر) ہم انہیں نہایت بیچارگی کی حالت میں سخت عذاب کی طرف ہنکا لے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ہم انھیں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے کی مہلت دیتے ہیں اس دنیا میں تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں اور یوں ان کے عذاب میں اضافہ ہو جائے۔ ﴿ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ پھر ہم انھیں جبراً کھینچ لائیں گے ﴿اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ ایک سخت عذاب کی طرف۔ یعنی وہ عذاب جو اپنی سختی، بہت بڑا ہونے، اپنی قباحت، اپنی الم ناکی اور اپنی شدت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{نمتِّعُهم قليلاً}: في الدنيا؛ ليزداد إثمهُم ويتوفَّر عذابُهم. {ثم نضطرُّهم}؛ أي: نلجِئُهم {إلى عذابٍ غليظٍ}؛ أي: انتهى في عظمِهِ وكبرِهِ وفظاعتِهِ وألمه وشدَّته.