تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 58

وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ ؕ وَ لَئِنۡ جِئۡتَہُمۡ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا مُبۡطِلُوۡنَ ﴿۵۸﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے اور یقینا اگر تو ان کے پاس کوئی نشانی لائے تو یقینا وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ضرور ہی کہیں گے کہ تم نہیں ہو مگر جھوٹے۔ En
اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے اور اگر تم اُن کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو یہ کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو
En
بیشک ہم نےاس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں۔ آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی ﻻئیں، یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بے ہوده گو) بالکل جھوٹے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَقَدْ ضَرَبْنَا اور ہم نے بیان کی اپنی عنایت، رحمت، لطف و کرم اور حسن تعلیم کی بنا پر ﴿لِلنَّاسِ فِیْ هٰؔذَا الْ٘قُ٘رْاٰنِ مِنْ كُ٘لِّ مَثَلٍ لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال جس سے حقائق واضح ہوتے ہیں، تمام امور کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور حجت تمام ہوتی ہے۔ یہ اصول ان تمام مثالوں میں عام ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے امور معقولہ کو امور محسوسہ کے قریب لانے کے لیے بیان کیا ہے۔ ان امور کے بارے میں جو ابھی واقع ہوں گے خبر دینے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کے لیے ضرب الامثال کا اسلوب بہت اہم ہے حتیٰ کہ یوں لگتا ہے جیسے یہ خبر واقع ہو چکی ہے۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے روز مجرموں کی حالت کیا ہو گی۔ وہ شدت غم میں مبتلا ہوں گے اور ان سے کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ ظالم کفار واضح حق کے بارے میں عناد رکھنے سے باز نہ آئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ اور اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں جو آپ کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتی ہو ﴿لَّیَ٘قُوْلَ٘نَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ تو کافر لوگ یہی کہیں گے کہ تم تو جعل سازی کرتے ہو۔ یعنی وہ حق کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ باطل ہے۔ یہ ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت کے باعث تھا نیز اس کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور وہ اپنی جہالت میں بہت دور تک نکل گئے۔
﴿كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ اسی طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پرمہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔ اس لیے ان کے دلوں میں کوئی بھلائی داخل ہو سکتی ہے نہ وہ اشیاء کی حقیقت کا ادراک کر سکتے ہیں بلکہ اس کے برعکس انھیں حق باطل اور باطل حق دکھائی دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ولقد ضَرَبْنا}: لأجل عنايتنا ورحْمَتِنا ولطفنا وحسنِ تعليمنا {للناس في هذا القرآنِ من كلِّ مثلٍ}: تتَّضِح به الحقائقُ وتُعرف به الأمور وتنقطعُ به الحجَّةُ، وهذا عامٌّ في الأمثال التي يضرِبُها الله في تقريب الأمور المعقولة بالمحسوسة، وفي الإخبار بما سيكون وجلاءِ حقيقتِهِ حتى كأنَّه وَقَعَ، ومنه في هذا الموضع ذكرُ الله تعالى ما يكون يوم القيامةِ، وحالةَ المجرمين فيه، وشدَّةَ أسَفِهم، وأنَّه لا يقبلُ منهم عذرٌ ولا عتابٌ، ولكن أبى الظالمون الكافرون إلاَّ معاندة الحقِّ الواضح، ولهذا قال: {ولئن جِئْتَهم بآيةٍ}؛ أي: أيَّ آية تدلُّ على صحة ما جئتَ به، {لَيقولَنَّ الذين كَفَروا إنْ أنتُم إلاَّ مبطلونَ}؛ أي: قالوا للحقِّ: إنَّه باطل! وهذا من كفرهم وجراءتهم وطَبْعِ الله على قلوبهم وجَهْلهم المفرطِ، ولهذا قال: {كذلك يَطْبَعُ الله على قلوبِ الذين لا يعلمونَ}: فلا يَدْخُلُها خيرٌ، ولا تدركُ الأشياءَ على حقيقتها، بل ترى الحقَّ باطلاً والباطل حقًّا.