تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ لَىِٕنْ جِئْتَهُمْ بِاٰيَةٍ لَّيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} اس لیے فرمایا کہ اگر آپ ان کے پاس کوئی بھی معجزہ لے آئیں یہ یہی کہیں گے کہ تم تو محض جھوٹے ہو۔ اس آیت کی ہم معنی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۱) اور یونس (۹۶، ۹۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
خود قرآن کریم کی آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:96] میں ہے کہ ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آ جائیں یہاں تک کہ وہ درد ناک عذاب کا معائنہ کر لیں ‘۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ بے علم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا، اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیئے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں ‘۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ «وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» ۱؎ [39-الزمر:65] آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت «فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:60] تلاوت فرمائی“۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:200/10:] (وہ حدیث جس سے اس مبارک سورۃ کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے)۔
اس کی سند حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اس میں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خبر ہے اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔
«اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورہ روم کی تفسیر ختم ہوئی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {ولقد ضَرَبْنا}: لأجل عنايتنا ورحْمَتِنا ولطفنا وحسنِ تعليمنا {للناس في هذا القرآنِ من كلِّ مثلٍ}: تتَّضِح به الحقائقُ وتُعرف به الأمور وتنقطعُ به الحجَّةُ، وهذا عامٌّ في الأمثال التي يضرِبُها الله في تقريب الأمور المعقولة بالمحسوسة، وفي الإخبار بما سيكون وجلاءِ حقيقتِهِ حتى كأنَّه وَقَعَ، ومنه في هذا الموضع ذكرُ الله تعالى ما يكون يوم القيامةِ، وحالةَ المجرمين فيه، وشدَّةَ أسَفِهم، وأنَّه لا يقبلُ منهم عذرٌ ولا عتابٌ، ولكن أبى الظالمون الكافرون إلاَّ معاندة الحقِّ الواضح، ولهذا قال: {ولئن جِئْتَهم بآيةٍ}؛ أي: أيَّ آية تدلُّ على صحة ما جئتَ به، {لَيقولَنَّ الذين كَفَروا إنْ أنتُم إلاَّ مبطلونَ}؛ أي: قالوا للحقِّ: إنَّه باطل! وهذا من كفرهم وجراءتهم وطَبْعِ الله على قلوبهم وجَهْلهم المفرطِ، ولهذا قال: {كذلك يَطْبَعُ الله على قلوبِ الذين لا يعلمونَ}: فلا يَدْخُلُها خيرٌ، ولا تدركُ الأشياءَ على حقيقتها، بل ترى الحقَّ باطلاً والباطل حقًّا.