تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 24

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ یُرِیۡکُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحۡیٖ بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ وہ تمھیں خوف اور طمع کے لیے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی اتارتا ہے، پھر زمین کو اس کے ساتھ اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور اُمید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینھہ برساتا ہے۔ پھر زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندہ (و شاداب) کر دیتا ہے۔ عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وه تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس مرده زمین کو زنده کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ وہ تم پر بارش برساتا ہے جس سے زمین اور بندوں میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ بارش برسانے سے قبل وہ تمھیں اس کے مقدمات کا مشاہدہ کراتا ہے، مثلاً: بجلی کی چمک اور بجلی کی کڑک، جس سے امید وابستہ ہوتی ہے اور اس سے خوف بھی آتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں جو اس کے بے پایاں احسان، لا محدود علم، کامل مہارت اور عظیم حکمت پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرے گا جس طرح اس نے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد زندگی بخشی ﴿لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔ وہ جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں اس عقل کے ذریعے سے اسے سمجھنے اور یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، پھر اس عقل کے ذریعے سے ان امور پر استدلال کرتے ہیں جن پر ان نشانیوں کو دلیل بنایا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ومن آياتِهِ أن يُنَزِّلَ عليكم المطر الذي تحيا به البلادُ والعباد، ويريكم قبلَ نزوله مقدِّماتِهِ من الرعد والبرق الذي يُخاف ويُطمع فيه. {إنَّ في ذلك لآياتٍ}: دالَّة على عموم إحسانِهِ وسَعةِ علمِهِ وكمال إتْقانِهِ وعظيم حكمتِهِ، وأنَّه يُحيي الموتى، كما أحيا الأرض بعد موتها، {لقوم يعقلونَ}؛ أي: لهم عقولٌ تعقِلُ بها ما تسمعُه وتراه وتحفظُه، وتستدلُّ به على ما جعل دليلاً عليه.