اور اس کی نشانیوں میں سے تمھارا دن اور رات میں سونا اور تمھارا اس کے فضل سے (حصہ) تلاش کرنا ہے۔بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔
En
اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے تمہارا رات اور دن میں سونا اور اُس کے فضل کا تلاش کرنا۔ جو لوگ سنتے ہیں اُن کے لیے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے۔ جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی آیات و معانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے تدبر و تفکر کے ساتھ سننے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔ یہ آیت کریمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنْرَّحْمَتِهٖجَعَلَلَكُمُالَّیْلَوَالنَّهَارَلِتَسْكُنُوْافِیْهِوَلِتَبْتَغُوْامِنْفَضْلِهٖ٘وَلَعَلَّكُمْتَشْكُرُوْنَ﴾ (القصص:28؍73) ”یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم رات کے وقت سکون حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو۔“ نیز یہ آیت کریمہ اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ لوگ کسی وقت سکون حاصل کریں تاکہ وہ آرام کر سکیں اور کسی وقت اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے لیے زمین پر پھیل جائیں اور یہ مصالح اس وقت تک پورے نہیں ہوتے جب تک کہ رات اور دن ایک دوسرے کا تعاقب کرتے ہوئے نہ آئیں۔ جس اکیلی ہستی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے لگایا ہے وہی اکیلی ہستی عبادت کی مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: سماع تدبُّر وتعقُّل للمعاني والآيات في ذلك؛ إنَّ ذلك دليلٌ على رحمة الله تعالى؛ كما قال: {ومن رحمتِهِ جَعَلَ لكم الليلَ والنهارَ لِتَسْكُنوا فيه ولِتَبْتَغوا من فضلِهِ ولعلَّكم تشكرونَ}، وعلى تمام حكمتِهِ؛ إذْ حكمتُه اقتضتْ سكون الخلق في وقت ليستريحوا [به] ويجموا، وانتشارهم في وقت لمصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة، ولا يتمُّ ذلك إلا بتعاقُب الليل والنهار عليهم، والمنفردُ بذلك هو المستحق للعبادة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔