تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 192

رَبَّنَاۤ اِنَّکَ مَنۡ تُدۡخِلِ النَّارَ فَقَدۡ اَخۡزَیۡتَہٗ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۱۹۲﴾
اے ہمارے رب! بلاشبہ تو جسے آگ میں ڈالے سو یقینا تو نے اسے رسوا کر دیا اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ En
اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
En
اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے یقیناً تو نے اسے رسوا کیا، اور ﻇالموں کا مددگار کوئی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ اے ہمارے رب! جس کو تو نے دوزخ میں ڈال دیا، تو اس کو تو نے رسوا کر دیا یعنی اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور اس کے اولیاء کو ناراض کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو رسوا کیا اور اسے فضیحت میں مبتلا کر دیا۔ جس سے نجات کی کوئی راہ ہے نہ اس سے کوئی بچانے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے ظلم کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته}؛ أي: لحصوله على السخط من الله ومن ملائكته وأوليائه ووقوع الفضيحة التي لا نجاة منها ولا منقذ منها، ولهذا قال: {وما للظالمين من أنصار} ينقذونهم من عذابه، وفيه دلالة على أنهم دخلوها بظلمهم.