تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 191

الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾
وہ لوگ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں، اے ہمارے رب! تو نے یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، سو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ En
جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو
En
جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں وزمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار! تو نے یہ بے فائده نہیں بنایا، تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان عقل مندوں لوگوں کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ وہ اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ﴿قِیٰمًا وَّقُ٘عُوْدًا وَّعَلٰى جُنُوْبِهِمْ یہ قلبی و قولی ذکر اور ذکر کی تمام انواع کو شامل ہے اور اس میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اگر بیٹھنے کی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر نماز پڑھنا بھی شامل ہے۔ نیز ﴿ وَیَتَفَؔكَّـرُوْنَ فِیْ خَلْ٘قِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وہ زمین و آسمان کی تخلیق پر غوروفکر کرتے یعنی ان سے ان کی تخلیق کے مقصد پر استدلال کرتے ہیں۔ نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کائنات میں غور و فکر کرنا عبادت ہے اور عارفین اولیاء اللہ کی صفت ہے۔ جب وہ اس کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عبث پیدا نہیں کیا، پس وہ پکار اٹھتے ہیں ﴿ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰؔذَا بَ٘اطِلًا١ۚ سُبْحٰؔنَكَ تیری ذات ہر اس وصف سے پاک ہے جو تیرے جلال کے لائق نہیں، تو نے اسے حق کے ساتھ حق کے لیے بلکہ حق پر مشتمل پیدا کیا ہے۔ ﴿ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ پس تو ہمیں جہنم سے بچا بایں طور کہ ہمیں برائیوں سے بچا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر، تاکہ اس کے ذریعے سے ہم جہنم کی آگ سے نجات حاصل کر سکیں۔ یہ دعا جنت کے سوال کو بھی متضمن ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے گا تو انھیں جنت حاصل ہو جائے گی۔ مگر جب ان کے دلوں پر خوف چھا گیا تو انھوں نے ان امور کی دعا مانگی جو ان کے لیے زیادہ اہم تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم وصف أولي الألباب بأنهم: {يذكرون الله} في جميع أحوالهم {قياماً وقعوداً وعلى جنوبهم}، وهذا يشمل جميع أنواع الذكر بالقول والقلب، ويدخل في ذلك الصلاة قائماً، فإن لم يستطع فقاعداً، فإن لم يستطع فعلى جنب، وأنهم: {يتفكرون في خلق السموات والأرض}؛ أي: ليستدلوا بها على المقصود منها، ودل هذا على أن التفكر عبادة من صفات أولياء الله العارفين، فإذا تفكروا بها عرفوا أن الله لم يخلقها عبثاً فيقولون: {ربنا ما خلقت هذا باطلاً سبحانك} عن كل ما لا يليق بجلالك بالحق وللحق بل خلقتها مشتملة على الحق {فقنا عذاب النار}، بأن تعصمنا من السيئات وتوفقنا للأعمال الصالحات لننال بذلك النجاة من النار. ويتضمن ذلك سؤال الجنة لأنهم إذا وقاهم الله عذاب النار حصلت لهم الجنة، ولكن لما قام الخوف بقلوبهم، دعوا الله بأهم الأمور عندهم: