ان لوگوں کو ہر گز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہر گز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
En
جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لئے چاہتے ہیں کہ ان ک تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے۔ اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا
وه لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھٹکارا میں نہ سمجھئے ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ لَاتَحْسَبَنَّالَّذِیْنَیَفْرَحُوْنَبِمَاۤاَتَوْا ﴾”آپ ان کی نسبت خیال نہ کریں جو اپنے (ناپسندیدہ) کاموں سے خوش ہوتے ہیں۔“ یعنی وہ جن قبیح امور اور قولی اور فعلی باطل کا ارتکاب کرتے ہیں ﴿ وَّیُحِبُّوْنَاَنْیُّحْمَدُوْابِمَالَمْیَفْعَلُوْا ﴾ یعنی اس بھلائی کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں کی اور اس حق کی وجہ سے ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے کبھی نہیں بولا۔ پس انھوں نے برائی کے قول و فعل اور اس پر اظہار فرحت کو یکجا کر دیا۔ وہ چاہتے تھے کہ بھلائی کے اس کام پر ان پر تعریف کے ڈونگرے برسائے جائیں جو انھوں نے کیا ہی نہیں۔ فرمایا: ﴿ فَلَاتَحْسَبَنَّهُمْبِمَفَازَةٍمِّنَالْعَذَابِ ﴾ یعنی وہ یہ نہ سمجھیں کہ انھیں عذاب سے نجات اور سلامتی حاصل ہو گئی ہے بلکہ وہ تو عذاب کے مستحق ہو گئے ہیں عنقریب انھیں عذاب میں ڈالا جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ﴿ وَلَهُمْعَذَابٌاَلِیْمٌ ﴾”ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ اہل کتاب شامل ہیں جو اس بات پر خوش ہیں کہ ان کے پاس علم ہے درآں حالیکہ انھوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت نہ کی اور وہ اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ وہ اپنے حال و مقال میں حق پر ہیں۔ اسی طرح ہر وہ شخص بھی اس وعید میں شامل ہے جو کوئی قولی یا فعلی بدعت ایجاد کرتا ہے اور اس پر خوش ہوتا ہے اور پھر اس بدعت کی طرف لوگوں کو دعوت دیتا ہے اور وہ اس بارے میں اپنے موقف کو حق اور دوسروں کے موقف کو باطل سمجھتا ہے جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ خواہش کرتا ہے کہ نیکی کے کام اور اتباع حق پر اس کی تعریف کی جائے جبکہ اس سے اس کا مقصد ریااور شہرت نہ ہو تو یہ مذموم نہیں۔ بلکہ اس کا شمار تو ان امور میں ہوتا ہے جو مطلوب و مقصود ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ان نیکیوں کی بنا پر نیکوکاروں کو ان کے قول و فعل کا بدلہ دیتا ہے۔ اس نے اپنے خاص بندوں کو ان نیکیوں پر جزا سے نوازا ہے اور ان خاص بندوں نے اللہ تعالیٰ سے ان نیکیوں کا سوال کیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی ﴿ وَاجْعَلْلِّیْلِسَانَصِدْقٍفِیالْاٰخِرِیْنَ﴾ (الشعراء:26؍84) ”اور پچھلے لوگوں میں میرا نیک ذکر جاری کر۔“ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ سَلٰ٘مٌعَلٰىنُوْحٍفِیالْعٰلَمِیْنَ۰۰اِنَّاكَذٰلِكَنَجْزِیالْمُحْسِنِیْنَ ﴾ (الصافات: 37؍79، 80) ”تمام جہان میں نوح پر سلام ہو۔ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔“رحمٰن کے بندوں نے عرض کی ﴿وَّاجْعَلْنَالِلْ٘مُتَّقِیْنَاِمَامًا ﴾ (الفرقان:25؍74) ”اور ہمیں متقی لوگوں کا امام بنا۔“ یہ اپنے بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے احسان کا فیضان ہے جن پر اللہ تعالیٰ کے شکر کی ضرورت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا}؛ أي: من القبائح والباطل القولي والفعلي {ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا}؛ أي: بالخير الذي لم يفعلوه والحق الذي لم يقولوه، فجمعوا بين فعل الشر وقوله والفرح بذلك ومحبة أن يحمدوا على فعل الخير الذي ما فعلوه، {فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب}؛ أي: بمحلِّ نجوة منه وسلامة، بل قد استحقوه وسيصيرون إليه ولهذا قال: {ولهم عذاب أليم}.
ويدخل في هذه الآية الكريمة أهل الكتاب الذين فرحوا بما عندهم من العلم ولم ينقادوا للرسول، وزعموا أنهم هم المحقون في حالهم ومقالهم، وكذلك كل من ابتدع بدعة قولية أو فعلية، وفرح بها، ودعا إليها، وزعم أنه محق وغيره مبطل كما هو الواقع من أهل البدع.
ودلت الآية بمفهومها على أن من أحبَّ أن يحمدَ ويُثْنَى عليه بما فعله من الخير واتِّباع الحقِّ إذا لم يكن قصده بذلك الرياء والسمعة أنه غير مذموم، بل هذا من الأمور المطلوبة التي أخبر الله أنه يجزي بها المحسنين له الأعمال والأقوال، وأنه جازى بها خواص خلقه وسألوها منه كما قال إبراهيم عليه السلام: {واجعل لي لسان صدق في الآخرين}، وقال: {سلام على نوح في العالمين إنا كذلك نجزي المحسنين}، وقد قال عباد الرحمن: {واجعلنا للمتقين إماماً}، وهي من نعم الباري على عبده ومننه التي تحتاج إلى شكر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔