تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کے لیے تشریف لے جاتے تو بعض منافقین آپ کے ساتھ نہ جاتے اور آپ کے جانے کے بعد (اپنے گھروں میں) بیٹھے رہنے سے بہت خوش ہوا کرتے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لاتے تو عذر اور بہانے پیش کرتے اور (ان عذر بہانوں پر) قسم کھاتے اور چاہتے کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انھوں نے نہیں کیا، چنانچہ اس سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا» [بخاری، التفسیر، باب: «ولا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا» : ۴۵۶۷] مگر یہ حکم اہل کتاب اور مسلمانوں کے لیے عام ہے، جو بھی خوشامد پسند ہو گا اور اس قسم کا ذہن رکھے گا کہ اس کے ناکردہ کارناموں پر اس کی تعریف کی جائے اس کے لیے وہ وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ (شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ آپ نے یہود کو بلا بھیجا اور ان سے دین کی کوئی بات پوچھی۔ انہوں نے حق چھپایا اور غلط بات بتلا دی۔ پھر سمجھے کہ ہم (نے کمال کیا) آپ کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے یعنی آپ کو بتلایا بھی اور حق بات چھپا بھی لی۔ پھر یہی آیت پڑھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ مروان نے اپنے دربان رافع کو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس بھیجا کہ اس آیت کا مطلب پوچھ کے آؤ، کیونکہ اس آیت کی رو سے ہر شخص عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کو جو نعمت ملی، یا وہ جو کرتا ہے۔ اس پر خوش ہوتا ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ناکردہ کام پر اس کی تعریف کی جائے۔ چنانچہ رافع ابن عباسؓ کے پاس آئے تو ابن عباسؓ نے فرمایا: تم مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق؟ پھر انہوں نے اس سے پہلی آیت ساتھ ملا کر پڑھی اور کہا کہ یہ ان یہودیوں کے حق میں ہے۔ جنہیں آپ نے بلا کر ان سے کوئی بات پوچھی تو انہوں نے حق بات تو چھپا دی اور کوئی غلط بات بتلا دی پھر یہ سمجھے کہ وہ ان کے نزدیک قابل تعریف ٹھہرے (یعنی آپ کو بتلا بھی دیا اور حق بھی چھپا لیا) پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
3۔ حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں چند ایسے منافق تھے کہ جب آپ جہاد پر جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور خوش ہوتے۔ پھر جب آپ واپس آتے تو قسمیں کھا کر طرح طرح کے بہانے بناتے اور یہ بات انہیں اچھی لگتی تھی کہ ان کے ناکردہ کاموں پر ان کی تعریف ہو۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير] ان میں سے حدیث نمبر 1 اور 2 کے راوی ابن عباسؓ ہیں اور اس آیت کو یہود سے متعلق بتلاتے ہیں اور حدیث 3 کے راوی ابو سعید خدریؓ ہیں اور وہ اس آیت کو منافقین سے متعلق بتلاتے ہیں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے پہلی دو احادیث راجح معلوم ہوتی ہیں۔ کیونکہ پیچھے یہود کی کرتوتوں کا ذکر چل رہا ہے۔ تاہم اس مضمون میں منافقین تو کیا خود مسلمانوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی جو شخص بھی ایسی شہرت پسند کرتا ہو کہ فلاں آدمی بڑا مخلص، دیانتدار، ایثار پیشہ خادم خلق اور عالم دین ہے یا ان میں سے کسی بھی صفت کی شہرت چاہتا ہو جبکہ حقیقت میں معاملہ ایسا نہ ہو یا کسی نے اچھے کام میں محنت تو تھوڑی ہی کی مگر شہرت اور ناموری اس سے بہت زیادہ چاہتا تو اس کا وہی حشر ہو گا جو اس آیت میں مذکور ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
علماء کرام کو چاہیئے کہ ان کے پاس جو نفع دینے والا دینی علم ہو جس سے لوگ نیک عمل جم کر سکتے ہوں اسے پھیلاتے رہیں اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے جس شخص سے علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا جائے گا۔[سنن ابوداود:3658،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ۱؎
بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے جو نہ دیا گیا ہو اس کے ساتھ آسودگی جتنانے والا دو چھوٹے کپڑے پہننے والے کی مثل ہے،[صحیح بخاری:5219] ۱؎
مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اگر اپنے کام پر خوش ہونے اور نہ کئے ہوئے کام پر تعریف پسند کرنے کے باعث اللہ کا عذاب ہو گا تو ہم سے کوئی اس سے چھٹکارا نہیں پا سکتا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں اس آیت سے کیا تعلق؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں ہے پھر آپ نے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:183] آیت کے ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے لگے کہ ہم نے آپ کے سوال کا جواب دے دیا جس کی وجہ سے آپ کے پاس ہماری تعریف ہو گی اور سوال کے اصلی جواب کے چھپا لینے اور اپنے جھوٹے فقرہ چل جانے پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے۔[صحیح بخاری:4568] ۱؎
سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے آپ نے فرمایا کیوں؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے کہ تکبر سے اللہ نے روکا ہے اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند آواز کرنا ممنوع ہے اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے خوش نہیں کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے خوش ہو کر کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے شہادت پائی۔ [مستدرک حاکم:234/3:حسن] ۱؎ «تَحْسَبَنَّهُمْ» کو «یَحْسَبَنَّهُمْ» بھی پڑھا گیا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا}؛ أي: من القبائح والباطل القولي والفعلي {ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا}؛ أي: بالخير الذي لم يفعلوه والحق الذي لم يقولوه، فجمعوا بين فعل الشر وقوله والفرح بذلك ومحبة أن يحمدوا على فعل الخير الذي ما فعلوه، {فلا تحسبنهم بمفازة من العذاب}؛ أي: بمحلِّ نجوة منه وسلامة، بل قد استحقوه وسيصيرون إليه ولهذا قال: {ولهم عذاب أليم}.
ويدخل في هذه الآية الكريمة أهل الكتاب الذين فرحوا بما عندهم من العلم ولم ينقادوا للرسول، وزعموا أنهم هم المحقون في حالهم ومقالهم، وكذلك كل من ابتدع بدعة قولية أو فعلية، وفرح بها، ودعا إليها، وزعم أنه محق وغيره مبطل كما هو الواقع من أهل البدع.
ودلت الآية بمفهومها على أن من أحبَّ أن يحمدَ ويُثْنَى عليه بما فعله من الخير واتِّباع الحقِّ إذا لم يكن قصده بذلك الرياء والسمعة أنه غير مذموم، بل هذا من الأمور المطلوبة التي أخبر الله أنه يجزي بها المحسنين له الأعمال والأقوال، وأنه جازى بها خواص خلقه وسألوها منه كما قال إبراهيم عليه السلام: {واجعل لي لسان صدق في الآخرين}، وقال: {سلام على نوح في العالمين إنا كذلك نجزي المحسنين}، وقد قال عباد الرحمن: {واجعلنا للمتقين إماماً}، وهي من نعم الباري على عبده ومننه التي تحتاج إلى شكر.