تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 172

اَلَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَہُمُ الۡقَرۡحُ ؕۛ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡہُمۡ وَ اتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۷۲﴾ۚ
وہ جنھوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا، اس کے بعد کہ انھیں زخم پہنچا، ان میں سے ان لوگوں کے لیے جنھوں نے نیکی کی اور متقی بنے بہت بڑا اجر ہے۔ En
جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا اور رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے
En
جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں پورے زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیزگاری برتی ان کے لئے بہت زیاده اجر ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد سے مدینہ کی طرف لوٹ آئے آپ نے سنا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھ جو مشرک ہیں وہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے اپنے اصحاب کرام کو جنگ کے لیے نکلنے کو کہا۔ اس کے باوجود کہ صحابہ کرام سخت زخمی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نکل آئے۔ جب وہ حمراء الاسد پہنچے تو ایک آنے والے نے ان کے پاس آ کر کہا ﴿ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ اس نے خوف زدہ کرنے کی غرض سے کہا کہ لوگ تمھیں مٹانے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ اس کے اس قول نے اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھروسے میں اور اضافہ کیا اور انھوں نے کہا۔ ﴿ حَسْبُنَا اللّٰهُ یعنی ہماری پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے ﴿ وَنِعْمَ الْوَؔكِیْلُ اور وہ بہترین کارساز ہے اور بندوں کی تدبیر اسی کے سپرد ہے اور وہ ان کے مصالح کا انتظام کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما رجع النبي - صلى الله عليه وسلم - من أحد إلى المدينة وسمع أن أبا سفيان ومن معه من المشركين قد هموا بالرجوع إلى المدينة ندب أصحابه إلى الخروج، فخرجوا على ما بهم من الجراح استجابة لله ولرسوله وطاعة لله ولرسوله، فوصلوا إلى حمراء الأسد ، وجاءهم من جاءهم وقال لهم: {إن الناس قد جمعوا لكم}؛ وهمُّوا باستئصالكم تخويفاً لهم وترهيباً، فلم يزدهم ذلك إلا إيماناً بالله واتكالاً عليه {وقالوا حسبنا الله}؛ أي: كافينا كل ما أهمنا {ونعم الوكيل}؛ المفوض إليه تدبير عباده والقائم بمصالحهم.