تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 171

یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۱﴾ۚ٪ۛ
وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل پر بہت خوش ہوتے ہیں اور (اس بات پر) کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ En
اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں۔ اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا
En
وه خوش ہوتے ہیں اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس سے بھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے اجر کو برباد نہیں کرتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿یَسْتَبْشِرُوْنَ۠ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ وہ ایک دوسرے کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہوں گے اور یہ ان کے رب کی نعمت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ ﴿وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اور اللہ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا بلکہ وہ اسے بڑھاتا ہے اس کی قدر کرتا ہے اپنے فضل و کرم سے اس میں اتنا اضافہ کرتا ہے کہ ان کی کوشش وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ برزخ میں بھی نعمتیں عطا ہوں گی اور برزخ میں شہداء اپنے رب کے پاس بلند ترین مقامات پر فائز ہوں گے۔ نیز نیک ارواح ایک دوسرے سے ملاقات اور ایک دوسرے کی زیارت کرتی ہیں اور ایک دوسرے کو خوشخبری دیتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يستبشرون بنعمة من الله وفضل} أي: يهنئ بعضهم بعضاً بأعظم مهنأ به وهو نعمة ربهم وفضله وإحسانه {وأن الله لا يضيع أجر المؤمنين}؛ بل ينميه ويشكره، ويزيده من فضله ما لا يصل إليه سعيهم.

وفي هذه الآيات إثبات نعيم البرزخ، وأن الشهداء في أعلى مكان عند ربهم، وفيه تلاقي أرواح أهل الخير، وزيارة بعضهم بعضاً، وتبشير بعضهم بعضاً.