جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور خود بیٹھے رہے، اگر وہ ہمارا کہنا مانتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دے پھر اپنے آپ سے موت کو ہٹا دینا، اگر تم سچے ہو۔
En
یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
یہ وه لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی بابت کہا کہ اگر وه بھی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ کہہ دیجئے! کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا دو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَقَالُوْالِاِخْوَانِهِمْوَقَعَدُوْالَوْاَطَاعُوْنَامَاقُ٘تِلُوْا ﴾”وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے“ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْفَادْرَءُوْا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنْاَنْفُسِكُمُالْمَوْتَاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ ﴾”اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو“ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {الذين قالوا لإخوانهم وقعدوا لو أطاعونا ما قتلوا}؛ أي: جمعوا بين التخلف عن الجهاد وبين الاعتراض والتكذيب بقضاء الله وقدره، قال الله ردًّا عليهم: {قل فادرأوا}؛ أي: ادفعوا {عن أنفسكم الموت إن كنتم صادقين}، أنهم لو أطاعوكم ما قتلوا لا تقدرون على ذلك ولا تستطيعونه. وفي هذه الآيات دليل على أن العبد قد يكون فيه خصلة كفر وخصلة إيمان، وقد يكون إلى إحداهما أقرب منه إلى الأخرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔