جنھوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا اور خود بیٹھے رہے، اگر وہ ہمارا کہنا مانتے تو قتل نہ کیے جاتے۔ کہہ دے پھر اپنے آپ سے موت کو ہٹا دینا، اگر تم سچے ہو۔
En
یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
یہ وه لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی بابت کہا کہ اگر وه بھی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ کہہ دیجئے! کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا دو
En
(آیت 168)جو مسلمان جنگ احد میں شہید ہوئے ان کے بارے میں منافقین نے اس قسم کا اظہار کیا، تاکہ لوگوں کو جہاد میں شمولیت سے متنفر کیا جا سکے۔ قرآن نے ان کے اس شبہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر واقعی گھروں میں بیٹھے رہنا تمھیں موت سے بچا سکتا ہے تو ذرا اپنے اوپر واقع ہونے والی موت کو ٹال کر دکھا ؤ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
168۔ 1 یہ منافقین کا قول ہے ' اگر ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے ' اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' اگر تم سچے ہو تو اپنے سے موت ٹال کر دکھاؤ ' مطلب یہ کہ تقدیر سے کسی کو مفر نہیں۔ موت بھی جہاں اور جیسے اور جس جگہ آنا ہے ہر صورت میں آکر رہے گی۔ اس لئے جہاد اور اللہ کی راہ میں لڑنے سے گریز و فرار یہ کسی کو موت کے شکنجے سے نہیں بچا سکتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
168۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو پیچھے بیٹھ رہے اور اپنے بھائی بندوں سے کہنے لگے: ”اگر تم ہمارا کہا مانتے تو (آج) مارے [168] نہ جاتے“ آپ ان سے کہئے کہ: ”اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو تو اپنے آپ سے ہی موت کو ٹال کر دکھلا دو
[168] یعنی ایک تو خود جہاد میں حصہ نہ لیا۔ دوسرے ان کے جو بھائی جہاد میں حصہ لے رہے تھے انہیں ملامت شروع کر دی کہ تم ہماری بات مان لیتے تو آج ہمارے بھائی بند مارے نہ جاتے۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تمہیں موت سے بچنے اور بچانے کا طریقہ آتا ہے اور اس پر اتنا یقین ہے تو خود تمہیں موت آئے گی اس وقت ایسا کوئی طریقہ استعمال کر کے دیکھ لینا۔ ایسی باتیں در اصل اللہ کی تقدیر پر اعتراض کے ضمن میں آتی ہیں۔ لیکن منافقوں میں ایمان تھا کہاں کہ ان کی ایسی باتوں پر تعجب کیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَقَالُوْالِاِخْوَانِهِمْوَقَعَدُوْالَوْاَطَاعُوْنَامَاقُ٘تِلُوْا ﴾”وہ لوگ جو کہتے ہیں اپنے بھائیوں سے اور آپ بیٹھے رہے، اگر وہ ہماری بات مانتے تو مارے نہ جاتے“ یعنی انھوں نے دو برائیوں کو اکٹھا کر لیا تھا، جہاد سے جی چرا کر پیچھے رہنا اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر اعتراض اور اس کی تکذیب کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ قُ٘لْفَادْرَءُوْا ﴾ یعنی دور ہٹا دو ﴿ عَنْاَنْفُسِكُمُالْمَوْتَاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ ﴾”اپنے اوپر سے موت کو، اگر تم سچے ہو“ یعنی اگر تم یہ کہنے میں سچے ہو کہ اگر وہ تمھاری بات مانتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔ تم اس پر قدرت نہیں رکھتے اور نہ تم ان کو قتل ہونے سے بچانے کی استطاعت رکھتے ہو۔ ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بندے میں کبھی کبھی کفر کی کوئی خصلت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایمان کی خصلت بھی اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک خصلت کی نسبت دوسری خصلت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم قال تعالى: {الذين قالوا لإخوانهم وقعدوا لو أطاعونا ما قتلوا}؛ أي: جمعوا بين التخلف عن الجهاد وبين الاعتراض والتكذيب بقضاء الله وقدره، قال الله ردًّا عليهم: {قل فادرأوا}؛ أي: ادفعوا {عن أنفسكم الموت إن كنتم صادقين}، أنهم لو أطاعوكم ما قتلوا لا تقدرون على ذلك ولا تستطيعونه. وفي هذه الآيات دليل على أن العبد قد يكون فيه خصلة كفر وخصلة إيمان، وقد يكون إلى إحداهما أقرب منه إلى الأخرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔