بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔
En
خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے
بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان جو اس نے اپنے بندوں پر کیا ہے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے، بلکہ اصل نعمت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ان پر بہت بڑا احسان کیا۔ جس کے ذریعے سے اس نے ان کو گمراہی کے گڑھے سے بچایا اور انھیں ہلاکت سے محفوظ کیا۔ پس فرمایا: ﴿لَقَدْمَنَّاللّٰهُعَلَىالْمُؤْمِنِیْنَاِذْبَعَثَفِیْهِمْرَسُوْلًامِّنْاَنْفُسِهِمْ﴾”یقینا اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا، جو بھیجا ان میں رسول، انھی میں سے“ یعنی وہ اس کا حسب و نسب، اس کے احوال اور اس کی زبان جانتے ہیں۔ وہ ان کی اپنی قوم اور ان کے اپنے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات رکھتا اور ان پر بہت شفیق اور مہربان ہے۔ ﴿یَتْلُوْاعَلَیْهِمْاٰیٰتِهٖ﴾ یعنی وہ ان کو ان آیات کے الفاظ اور معانی سکھاتا ہے ﴿وَیُزَؔكِّیْهِمْ﴾ یعنی وہ ان کو شرک، گناہ، رذائل اور دیگر تمام برے اخلاق و اطوار سے پاک کرتا ہے ﴿وَیُعَلِّمُهُمُالْكِتٰبَ ﴾”اور انھیں کتاب سکھاتا ہے“ یا تو اس سے مراد جنس کتاب ہے جو کہ قرآن مجید ہے تب اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿یَتْلُوْاعَلَیْهِمْاٰیٰتِهٖ﴾ سے مراد آیات کونیہ ہوں گی۔ یا کتاب سے مراد ”کتابت“ ہے تب اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتاب اور کتابت کی تعلیم دے کر ان پر بڑا احسان کیا ہے، جس کے ذریعے سے علوم حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ ﴿وَالْحِكْمَةَ﴾ یہاں حکمت سے مراد سنت ہے جو کہ قرآن مجید کی مانند ہے نیز اس سے مراد تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھنا اور اسرار شریعت کی معرفت بھی ہے۔
پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تعلیم احکام، تنفیذ احکام کے ذرائع اور ان احکام کے فوائد و ثمرات کے حصول کے ذرائع کو جمع کر دیا۔ پس وہ ان عظیم امور کی بنا پر تمام لوگوں سے آگے نکل گئے اور ان کا شمار علمائے ربانی میں ہونے لگا۔ ﴿وَاِنْكَانُوْامِنْقَبْلُ﴾ یعنی اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ﴿لَ٘فِیْضَلٰ٘لٍمُّبِیْنٍ﴾”وہ کھلی گمراہی میں تھے“ اور اپنے رب تک پہنچانے والے راستے کی معرفت سے محروم تھے اور نہ انھیں اس طریق کا علم تھا جو ان کا تزکیہ نفس کر کے ان کو پاک کرے بلکہ وہ تو اس راستے پر گامزن تھے جو ان کی جہالت کو مزین کرتا تھا۔ خواہ یہ جہالت تمام جہانوں کی عقل کے متناقض ہی کیوں نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه المنَّةُ التي امتنَّ الله بها على عباده أكبر النعم بل أصلها، وهي الامتنان عليهم بهذا الرسول الكريم الذي أنقذهم الله به من الضلالة، وعصمهم به من الهلكة فقال: {لقد منَّ الله على المؤمنين إذ بعث فيهم رسولاً من أنفسهم}؛ يعرفون نسبه وحاله ولسانه من قومهم وقبيلتهم ناصحاً لهم مشفقاً عليهم يتلو عليهم آيات الله؛ يعلمهم ألفاظها ومعانيها {ويزكيهم}؛ من الشرك والمعاصي والرذائل وسائر مساوئ الأخلاق {ويعلمهم الكتاب}؛ إما جنس الكتاب الذي هو القرآن فيكون قوله: {يتلو عليهم آياته}؛ المراد به الآيات الكونية، أو المراد بالكتاب هنا الكتابة فيكون قد امتنَّ عليهم بتعليم الكتاب والكتابة التي بها تدرك العلوم وتحفظ {والحكمة}؛ هي: السنة التي هي شقيقة القرآن، أو وضع الأشياء مواضعها ومعرفة أسرار الشريعة فجمع لهم بين تعليم الأحكام وما به تُنَفَّذ الأحكام وما به تدرك فوائدها وثمراتها ففاقوا بهذه الأمور العظيمة جميع المخلوقين، وكانوا من العلماء الربانيين {وإن كانوا من قبل}؛ بعثة هذا الرسول {لفي ضلال مبين}؛ لا يعرفون الطريق الموصل إلى ربهم، ولا ما يزكي النفوس، ويطهرها، بل ما يزين لهم جهلهم فعلوه، ولو ناقض ذلك عقول العالمين!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔