اور اس نے کہا بات یہی ہے کہ تم نے اللہ کے سوا بت بنائے ہیں، دنیا کی زندگی میں آپس کی دوستی کی وجہ سے، پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کرے گا اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کرے گا اور تمھارا ٹھکانا آگ ہی ہے اور تمھارے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
En
اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا
(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے، تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے۔ اور تمہارا سب کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَقَالَ ﴾ ابرہیم علیہ السلام نے، ان کے ساتھ خیرخواہی کی وجہ سے فرمایا: ﴿ اِنَّمَااتَّؔخَذْتُمْمِّنْدُوْنِاللّٰهِاَوْثَانًا١ۙمَّوَدَّةَبَیْنِكُمْفِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَا﴾”تم جو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو، صرف دنیا میں باہم دوستی کے لیے۔“ اس کی غایت و انتہا بس دنیا میں دوستی اور محبت ہے جو عنقریب ختم ہو جائے گی۔ ﴿ ثُمَّیَوْمَالْقِیٰمَةِیَكْ٘فُرُبَعْضُكُمْبِبَعْضٍوَّیَلْ٘عَنُبَعْضُكُمْبَعْضًا﴾”پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے کی دوستی کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔“ تمام عابد اور معبود ایک دوسرے سے براء ت کا اظہار کریں گے۔ ﴿وَاِذَاحُشِرَالنَّاسُكَانُوْالَهُمْاَعْدَآءًؔوَّكَانُوْابِعِبَادَتِهِمْكٰفِرِیْنَ﴾ (الاحقاف:46؍6) ”اور جب لوگوں کو جمع کیا جائے گا تو یہ ان کے دشمن ہوجائیں گے اور ان کی پرستش سے صاف انکار کرجائیں گے۔“ تب تم ایسی ہستیوں سے کیونکر تعلق رکھتے ہو جو عنقریب اپنے عبادت گزاروں سے بیزاری کا اظہار کریں گی۔ ﴿ وَّ ﴾”اور“ بے شک یعنی عابدوں اور معبودوں، سب کا ٹھکانا ﴿النَّارُ ﴾”جہنم ہو گا“ اور کوئی انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا نہ ان سے اس کے عقاب کو دور کر سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وقال}: لهم إبراهيمُ في جملةِ ما قاله من نُصحه: {إنَّما اتَّخذتُم من دون الله أوثاناً مودَّةَ بَيْنِكُم في الحياة الدُّنيا}؛ أي: غايةُ ذلك مودَّةٌ في الدنيا ستنقطعُ وتضمحلُّ، {ثم يومَ القيامةِ يَكْفُرُ بعضُكم ببعض ويلعنُ بعضُكم بعضاً}؛ أي: يتبرَّأ كلٌّ من العابدين والمعبودين من الآخر، وإذا حُشِرَ الناسُ؛ كانوا لهم أعداء وكانوا بعبادتهم كافرين؛ فكيف تتعلَّقون بِمَنْ يعلمُ أنه سيتبرأ من عابديه، ويلعنُهم. وأنَّ مأوى الجميع العابدين والمعبودين {النار}: وليس أحدٌ ينصُرُهم من عذاب الله، ولا يدفعُ عنهم عقابه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔