تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 48

فَلَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُوۡتِیَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی ؕ اَوَ لَمۡ یَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِیَ مُوۡسٰی مِنۡ قَبۡلُ ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰنِ تَظٰہَرَا ۟ٝ وَ قَالُوۡۤا اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾
پھر جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آگیا تو انھوں نے کہا اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں؟ تو کیا انھوںنے اس سے پہلے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئی تھیں۔ انھوں نے کہا یہ دونوں (مجسم) جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور کہنے لگے ہم تو ان سب سے منکر ہیں۔ En
پھر جب اُن کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہنے لگے کہ جیسی (نشانیاں) موسٰی کو ملی تھیں ویسی اس کو کیوں نہیں ملیں۔ کیا جو (نشانیاں) پہلے موسٰی کو دی گئی تھیں اُنہوں نے اُن سے کفر نہیں کیا۔ کہنے لگے کہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔ اور بولے کہ ہم سب سے منکر ہیں
En
پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آپہنچا تو کہتے ہیں کہ یہ وه کیوں نہیں دیا گیا جیسے دیئے گئے تھے موسیٰ (علیہ السلام) اچھا تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا تھا اس کے ساتھ لوگوں نے کفر نہیں کیا تھا، صاف کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم تو ان سب کے منکر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ پس جب ان کے پاس حق آگیا۔ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنْ عِنْدِنَا ہماری طرف سے اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوْا تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوْلَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰؔى انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ علیہ السلام کودیا گیا۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا: ﴿ وَلَا یَ٘اْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا (الفرقان:25؍33) اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔
نیز قرآن کو موسیٰ علیہ السلام کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا: ﴿ اَوَلَمْ یَكْ٘فُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰؔى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰؔنِ تَ٘ظٰهَرَا کیا جو پہلے موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں۔ ﴿ وَقَالُوْۤا اِنَّا بِكُ٘لٍّ كٰفِرُوْنَ انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فلمَّا جاءهم الحقُّ}: الذي لا شكَّ فيه {من عندِنا}: وهو القرآنُ الذي أوحيناه إليك، {قالوا}: مكذِّبين له ومعترِضين بما ليس يُعْتَرَضُ به: {لولا أوتي مِثْلَ ما أوتي موسى}؛ أي: أُنْزِلَ عليه كتابٌ من السماء جملةً واحدةً؛ أي: فأما ما دام ينزل متفرقاً؛ فإنَّه ليس من عند الله، وأيُّ دليل في هذا؟! وأيُّ شبهة أنَّه ليس من عند الله حين نزل مفرَّقاً؟! بل من كمال هذا القرآن واعتناءِ الله بمن أنْزِلَ عليه أن نزل متفرِّقاً؛ ليثبِّتَ الله به فؤادَ رسولِهِ، ويحصُلَ زيادةُ الإيمان للمؤمنين، {ولا يأتونَكَ بِمَثَلٍ إلاَّ جئناكَ بالحقِّ وأحسنَ تفسيراً}. وأيضاً؛ فإنَّ قياسهم على كتاب موسى قياسٌ قد نقضوه؛ فكيف يقيسونَه على كتابٍ كفروا به ولم يؤمنوا [به]؟! ولهذا قال: {أوَلَمْ يكفُروا بما أوتي موسى من قبلُ قالوا سِحْرانِ تَظاهَرا}؛ أي: القرآن والتوراة تعاونا في سحرِهِما وإضلال الناس {وقالوا إنَّا بكلٍّ كافرون}: فثبت بهذا أن القوم يريدون إبطال الحقِّ بما ليس ببرهانٍ، وينقُضونه بما لا يُنْقَضُ، ويقولون الأقوال المتناقضة المختلفة، وهذا شأن كلِّ كافرٍ، ولهذا صرَّح أنهم كفروا بالكتابين والرسولين.