تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ مفسر رازی فرماتے ہیں: ”ان لوگوں نے جو مطالبہ کیا ضروری نہیں تھا کہ اسی طرح ہوتا، کیونکہ نہ تمام انبیاء کے معجزات کا ایک ہونا لازم ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ ان پر اترنے والی کتاب ایک ہی طرح نازل ہو، کیونکہ کبھی کتاب کا اکھٹا نازل ہونا بہتر ہوتا ہے جیسے تورات اور کبھی جدا جدا کر کے نازل کرنا بہتر ہوتا ہے، جیسے قرآن۔“
➌ { اَوَ لَمْ يَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِيَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ:} یعنی ان کے طلب کردہ معجزات اگر دکھا بھی دیے جائیں تو کیا فائدہ؟ جنھوں نے طے کر لیا ہے کہ ایمان نہیں لانا، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیا ان کے ہم جنس لوگوں نے جو ان جیسا مذہب اور ان جیسا عناد رکھنے والے تھے، یعنی موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے کافر، انھوں نے ان معجزات کا انکار نہیں کیا تھا جو موسیٰ کو دیے گئے تھے؟ انھوں نے موسیٰ اور ہارون علیھما السلام کے متعلق کہا تھا کہ یہ (اتنے بڑے جادوگر ہیں کہ) مجسم جادو ہیں، جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور انھوں نے کہا تھا کہ ہم تو ان سب سے منکر ہیں۔
یہ معنی درست ہے، مگر اس سے زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ{ ” اَوَ لَمْ يَكْفُرُوْا …“} (کیا انھوں نے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئیں) میں انکار کرنے والوں سے مراد قریش ہی ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ معجزے لانے کا مطالبہ کیا جو موسیٰ علیہ السلام کو دیے گئے۔ اس معنی کے زیادہ صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ{” فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ “} سے لے کر {” وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ “} تک سب باتیں کہنے والے وہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں فرمایا: «{ قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ }» ”کہہ پھر اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو۔“ ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہنے کا حکم ان لوگوں کے لیے تھا جو آپ کے مخاطب تھے اور وہ قریش تھے، یا آپ کے زمانے کے دوسرے کفار، کیونکہ وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہی کے منکر نہ تھے بلکہ اس سے پہلی نبوتوں کے بھی منکر تھے، وہ نہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا کر ان کے تابع دار بنے، نہ عیسیٰ علیہ السلام پر۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے زمانے کے کفار کا قول نقل فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ لَا بِالَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ}» [سبا: ۳۱] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے۔“ مطلب یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کے جن معجزوں کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں ان معجزوں کے باوجود موسیٰ علیہ السلام پر بھی یہ کب ایمان لائے تھے جو اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ خود کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزے دیے گئے تھے، مگر پھر بھی انھوں نے ان کو نبی مان کر ان کی پیروی کبھی قبول نہیں کی۔
➍ { قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا:} یعنی قرآن اور تورات دونوں جادو ہیں، جو ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے یہی نقل فرمایا ہے۔ آسمانی کتابوں میں قرآن کے بعد سب سے عظیم الشان کتاب تورات ہے، موسیٰ علیہ السلام کے بعد تمام انبیاء بشمول عیسیٰ علیہ السلام اسی پر عمل پیرا رہے، اس لیے قرآن میں عموماً تورات اور قرآن کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ }» [الأنعام:۹۱] ”کہہ وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی۔“ یہاں تورات کے نور اور ہدایت ہونے کا ذکر فرمایا، پھر قرآن کے متعلق فرمایا: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ }» [الأنعام: ۹۲] ”اور یہ ایک کتاب ہے، ہم نے اسے نازل کیا، بڑی برکت والی ہے، اس کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے ہے۔“ اسی سورۂ انعام کے آخر میں فرمایا: «{ ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيْۤ اَحْسَنَ }» [الأنعام: ۱۵۴] ”پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لیے جس نے نیکی کی۔“ اور اس سے اگلی آیت میں قرآن کا ذکر فرمایا: «{ وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ }» [الأنعام: ۱۵۵] ”اور یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی، پس اس کی پیروی کرو اور بچ جاؤ، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[65] اس جملہ کے کئی مطلب ہیں ایک یہ کہ موسیٰؑ کی قوم کہنے لگی کہ موسیٰ اور ہارون دونوں جادوگر ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ جب دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے عقائد میں کئی امور میں مماثلت پائی جاتی ہے مثلاً یہ دونوں فرقے بتوں کی عبادت سے بیزار اور اسے شرک اور کفر سمجھتے ہیں۔ آخرت پر دونوں ہی ایمان رکھتے ہیں۔ غیر اللہ کے نام پر ذبیحہ کو دونوں ہی حرام سمجھتے ہیں۔ مسلمان اگر حضرت موسیٰؑ کی تصدیق کرتے ہیں تو کئی منصف مزاج یہود اس نبی کو برحق سمجھتے ہیں تو یہ کافر کہنے لگتے ہیں کہ موسیٰؑ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہی جادوگر ہیں اور ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ کفار مکہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ تورات اور قرآن دونوں کھلا ہوا جادو ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں کتابیں ایک دوسری کی تائید و تصدیق کرتی ہیں۔
[66] لہٰذا ہم نہ تورات پر ایمان لاتے ہیں، نہ انجیل پر اور نہ قرآن پر۔ یہ سب کتابیں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کتاب ہمارے مطلب کی ترجمانی نہیں کرتی۔ لہٰذا ان میں سے کوئی کتاب ہی قابل قبول نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بالخصوص رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑ لیا اور تکبر عناد کے ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے موسیٰ علیہ السلام کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریاکو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے انہیں کیوں نہیں دئیے گئے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَارُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ بِآيَاتِنَا فَاسْتَكْبَرُوا وَكَانُوا قَوْمًا مُّجْرِمِينَ» ۱؎ [10-يونس:78] ’ یہ لوگ جس واقعہ کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں اور جس جیسے معجزے طلب کر رہے ہیں یہ خود انہی معجزوں کو کلیم اللہ کے ہاتھ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی کون سا ایمان لائے تھے؟ جو ان کے ایمان کی تمنا کرے؟ انہوں نے تو یہ معجزے دیکھ کر صاف کہا تھا یہ دونوں بھائی ہمیں اپنے بڑوں کی تابعداری سے ہٹانا چاہتے ہیں اور اپنی بڑائی ہم سے منوانا چاہتے ہیں ہم تو ہرگز انہیں مان کر نہیں دیں گے ‘۔ «فَكَذَّبُوهُمَا فَكَانُوا مِنَ الْمُهْلَكِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:48] ’ دونوں نبیوں کو جھٹلاتے رہے آخر انجام ہلاک کر دئیے گئے ‘۔
یہاں گو ذکر صرف موسیٰ علیہ السلام کا ہے لیکن چونکہ ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ ایسے گھل مل گئے تھے کہ گویا دونوں ایک تھے تو ایک کے ذکر کے کو دووسرے کے ذکر کے لیے کافی سمجھا۔ جیسے کسی شاعر کا قول ہے «فَمَا أَدْرِي إِذَا يَمَّمْت أَرْضًا أُرِيد الْخَيْر أَيّهمَا يَلِينِي أَيْ فَمَا أَدْرِي يَلِينِي الْخَيْر أَوْ الشَّرّ» کہ جب میں کسی جگہ کا ارادہ کرتا ہوں تو میں نہیں جانتا کہ وہاں مجھے نفع ملے گا یا نقصان ہو گا؟ تو یہاں بھی شاعر نے خیر کا لفظ تو کہا مگر شرط کا لفظ بیان نہیں کیونکہ خیر وشر دونوں کی ملازمت مقاربت اور مصاحبت ہے۔
مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہودیوں نے قریش سے کہا کہ تم یہ اعتراض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرو انہوں نے کیا اور جواب پاکر خاموش رہے ایک قول یہ بھی ہے کہ دونوں جادوگروں سے مراد موسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کی مراد عیسیٰ علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن اس تیسرے قول میں تو بہت ہی بعد ہے اور دوسرے قول سے بھی پہلا قول مضبوط اور عمدہ ہے اور بہت قوی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ مطلب «سَاحِرَانِ» کی قرأت پر ہے اور جن کی قرأت «سِحْرَانِ» ہے، وہ کہتے ہیں کہ مراد تورات اور قرآن ہے جو ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ کوئی کہتا ہے مراد تورات اور انجیل ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ» ۔
تورات اور قرآن کو اکثر ایک ہی جگہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْٓا اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَاؤُكُمْ قُلِ اللّٰهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِيْ خَوْضِهِمْ يَلْعَبُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:91-92] پس یہاں تورات کے نور وہدایت ہونے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا آیت «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اور اس کتاب کو بھی ہم نے ہی بابرکت بنا کر اتارا ہے ‘۔
اور سورت کے آخر میں فرمایا «ثُمَّ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَي الَّذِيْٓ اَحْسَنَ وَتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:154] ’ پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اور فرمان ہے «وَھٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَاتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:155] ’ اس ہماری اتاری ہوئی مبارک کتاب کی تم پیروی کرو اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘۔
جنات کا قول قرآن میں ہے «قَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا كِتَابًا أُنزِلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِي إِلَى الْحَقِّ وَإِلَىٰ طَرِيقٍ مُّسْتَقِيمٍ» ۱؎ [46-الأحقاف:30] کہ ’ انہوں نے کہا ہم نے وہ کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد اتاری گئی ہے جو اپنے سے پہلے کی اور الہامی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے ‘۔
ورقہ بن نوفل کا مقولہ حدیث کی کتابوں میں مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا یہ وہی اللہ کے راز داں بھیدی ہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ جس شخص نے غائر نظر سے علم دین کا مطالعہ کیا ہے اس پر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظمت وشرافت والی عزت وکرامت والی کتاب تو یہی قرآن مجید فرقان حمید ہے جو اللہ تعالیٰ حمید و مجید نے اپنے رؤف ورحیم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی۔
انجیل تو صرف توراۃ کو تمام کرنے والی اور بعض حرام کو حلال کرنے والی تھی اس لیے فرمایا کہ ’ ان دونوں کتابوں سے بہتر کتاب اگر تم اللہ کے ہاں سے لاؤ تو میں اس کی تابعداری کرونگا ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ جو آپ کہتے ہیں وہ بھی اگر یہ نہ کریں اور نہ آپ کی تابعداری کریں تو جان لے کہ دراصل انہیں دلیل برہان کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ یہ صرف جھگڑالو ہیں اور خواہش پرست ہیں ‘۔
اور ظاہر ہے کہ خواہش کے پابند لوگوں سے جو اللہ کی ہدایت سے خالی ہوں بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ اس میں انہماک کر کے جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کریں وہ آخر تک راہ راست سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ان کے لیے تفصیلی قول بیان کر دیا واضح کر دیا صاف کر دیا اگلی پچھلی باتیں بیان کر دیں قریشوں کے سامنے سب کچھ ظاہر کر دیا۔ بعض مراد اس سے رفاعہ لیتے ہیں اور ان کے ساتھ کے اور نو آدمی۔ یہ رفاعہ صفیہ بن حی کے ماموں ہیں جنہوں نے تمیمیہ بن وہب کو طلاق دی تھی جن کا دوسرا نکاح عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فلمَّا جاءهم الحقُّ}: الذي لا شكَّ فيه {من عندِنا}: وهو القرآنُ الذي أوحيناه إليك، {قالوا}: مكذِّبين له ومعترِضين بما ليس يُعْتَرَضُ به: {لولا أوتي مِثْلَ ما أوتي موسى}؛ أي: أُنْزِلَ عليه كتابٌ من السماء جملةً واحدةً؛ أي: فأما ما دام ينزل متفرقاً؛ فإنَّه ليس من عند الله، وأيُّ دليل في هذا؟! وأيُّ شبهة أنَّه ليس من عند الله حين نزل مفرَّقاً؟! بل من كمال هذا القرآن واعتناءِ الله بمن أنْزِلَ عليه أن نزل متفرِّقاً؛ ليثبِّتَ الله به فؤادَ رسولِهِ، ويحصُلَ زيادةُ الإيمان للمؤمنين، {ولا يأتونَكَ بِمَثَلٍ إلاَّ جئناكَ بالحقِّ وأحسنَ تفسيراً}. وأيضاً؛ فإنَّ قياسهم على كتاب موسى قياسٌ قد نقضوه؛ فكيف يقيسونَه على كتابٍ كفروا به ولم يؤمنوا [به]؟! ولهذا قال: {أوَلَمْ يكفُروا بما أوتي موسى من قبلُ قالوا سِحْرانِ تَظاهَرا}؛ أي: القرآن والتوراة تعاونا في سحرِهِما وإضلال الناس {وقالوا إنَّا بكلٍّ كافرون}: فثبت بهذا أن القوم يريدون إبطال الحقِّ بما ليس ببرهانٍ، وينقُضونه بما لا يُنْقَضُ، ويقولون الأقوال المتناقضة المختلفة، وهذا شأن كلِّ كافرٍ، ولهذا صرَّح أنهم كفروا بالكتابين والرسولين.