تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 46

وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَیۡنَا وَ لٰکِنۡ رَّحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىہُمۡ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور نہ تو پہاڑ کے کنارے پر تھا جب ہم نے آواز دی اور لیکن تیرے رب کی طرف سے رحمت ہے، تاکہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ En
اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
En
اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے، اس لیے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں پہنچا، کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کرلیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔ موسیٰ علیہ السلام کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰ علیہ السلام کو پیش آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں:
یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں۔
پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی ہیں، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَلٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّـرُوْنَ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔
اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ (یونس:10؍2) کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔ اور فرمایا: ﴿ قُ٘لْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعًا (الاعراف:7؍158) کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما كنتَ بجانِبِ الطُّورِ إذْ نادَيْنا}: موسى وأمَرْناه أنْ يأتي القومَ الظالمين ويبلِّغَهم رسالتنا ويُرِيَهم من آياتنا وعجائبنا ما قَصَصْنا عليك.

والمقصودُ أن الماجريات التي جرت لموسى عليه الصلاة والسلام في هذه الأماكن، فقصصتَها كما هي من غيرِ زيادةٍ ولا نقصٍ، لا يخلو من أحد أمرين: إمَّا أن تكونَ حَضَرْتَها وشاهَدْتَها، أو ذهبتَ إلى محالِّها فتعلَّمتها من أهلها؛ فحينئذٍ قد لا يدلُّ ذلك على أنَّك رسول الله؛ إذ الأمور التي يُخْبَرُ بها عن شهادةٍ ودراسةٍ من الأمور المشتركة غير المختصَّة بالأنبياء، ولكن هذا قد عُلِمَ وتُيُقِّنَ أنه ما كان وما صار؛ فأولياؤك وأعداؤك يعلَمون عدم ذلك. فتعيَّن الأمر الثاني، وهو أن هذا جاءك من قِبَلِ الله ووحيه وإرسالِهِ، فثبت بالدليل القطعيِّ صحةُ رسالتك ورحمةُ الله بك للعبادِ، ولهذا قال: {ولكن رحمةً من ربِّك لِتُنذِرَ قوماً ما أتاهم من نذيرٍ من قَبْلِكَ}؛ أي: العرب وقريش؛ فإنَّ الرسالة عندهم لا تُعرف وقت إرسال الرسول وقبله بأزمانٍ متطاولة، {لعلَّهم يتذكَّرون}: تفصيل الخير فيفعلونه، والشر فيتركونه. فإذا كنتَ بهذه المنزلة؛ كان الواجبُ عليهم المبادرةَ إلى الإيمان بك وشكرِ هذه النعمة التي لا يُقادَرُ قَدْرُها ولا يُدْرَك شُكرها. وإنذارُه للعرب لا ينفي أنْ يكون مرسَلاً لغيرِهم؛ فإنَّه عربيٌّ، والقرآن الذي نزل عليه عربيٌّ، وأول من باشر بدعوته العرب، فكانت رسالتُه لهم أصلاً ولغيرِهم تبعاً؛ كما قال تعالى: {أكان للناس عَجَباً أنْ أوْحَيْنا إلى رجل منهم أنْ أنذِرِ الناس}، {قلْ يا أيُّها الناسُ إنِّي رسولُ الله إليكُم جميعاً}.