تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ” وَ مَا كُنْتَ “} (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ پیغمبر حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود نہیں ہوتے، نہ وہ عالم الغیب ہوتے ہیں۔ انھیں جو علم ہوتا ہے وحی کے ذریعے سے ہوتا ہے اور وہ بھی اتنا جتنی وحی کی جائے۔
➌ { وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ:} یعنی آپ کو یہ واقعات اس لیے معلوم نہیں ہوئے کہ آپ ان مواقع پر موجود تھے، یا انھیں دیکھ رہے تھے، بلکہ یہ آپ کے رب کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور وحی سے نوازا۔
➍ {لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ …:} اس قوم سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں۔ ان میں ابراہیم، اسماعیل اور شعیب علیھم السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ ہزاروں برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچتی رہیں، مثلاً موسیٰ اور عیسیٰ علیھما السلام کی دعوت، کیونکہ اس کے بغیر ان کا کفر و شرک پر جمے رہنے کا عذر موجود رہتا، جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ عذر کسی کے لیے باقی نہیں چھوڑا، مگر خاص اس سر زمین میں کسی نبی کی بعثت نہیں ہوئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہاں آخری پیغمبر کو مبعوث فرمایا۔ اس مضمون کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ سجدہ (۳) اور یٰس (۱ تا ۶)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[62] یعنی اہل حجاز کے لئے اس دو ہزار سال میں کوئی نبی مبعوث نہ ہوا تھا ان لوگوں کا ان واقعات سے متعلق ذریعہ معلومات بسی وہی خبریں تھیں جو ادھر ادھر سے وہ سن لیتے تھے اور ان خبروں میں بھی کافی اختلافات تھے۔ اب ہم نے ان لوگوں میں آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ انھیں صحیح حالات کا علم ہو جائے۔ اور وہ امم سابقہ کے انجام سے متنبہ ہو کر سبق حاصل کریں۔ اور اللہ سے شرک اور سرکشی کی راہ چھوڑ کر راہ راست پر آ جائیں تاکہ ان کا انجام بھی ویسا ہی نہ ہو جیسا کہ مذکور امتوں کا ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما كنتَ بجانِبِ الطُّورِ إذْ نادَيْنا}: موسى وأمَرْناه أنْ يأتي القومَ الظالمين ويبلِّغَهم رسالتنا ويُرِيَهم من آياتنا وعجائبنا ما قَصَصْنا عليك.
والمقصودُ أن الماجريات التي جرت لموسى عليه الصلاة والسلام في هذه الأماكن، فقصصتَها كما هي من غيرِ زيادةٍ ولا نقصٍ، لا يخلو من أحد أمرين: إمَّا أن تكونَ حَضَرْتَها وشاهَدْتَها، أو ذهبتَ إلى محالِّها فتعلَّمتها من أهلها؛ فحينئذٍ قد لا يدلُّ ذلك على أنَّك رسول الله؛ إذ الأمور التي يُخْبَرُ بها عن شهادةٍ ودراسةٍ من الأمور المشتركة غير المختصَّة بالأنبياء، ولكن هذا قد عُلِمَ وتُيُقِّنَ أنه ما كان وما صار؛ فأولياؤك وأعداؤك يعلَمون عدم ذلك. فتعيَّن الأمر الثاني، وهو أن هذا جاءك من قِبَلِ الله ووحيه وإرسالِهِ، فثبت بالدليل القطعيِّ صحةُ رسالتك ورحمةُ الله بك للعبادِ، ولهذا قال: {ولكن رحمةً من ربِّك لِتُنذِرَ قوماً ما أتاهم من نذيرٍ من قَبْلِكَ}؛ أي: العرب وقريش؛ فإنَّ الرسالة عندهم لا تُعرف وقت إرسال الرسول وقبله بأزمانٍ متطاولة، {لعلَّهم يتذكَّرون}: تفصيل الخير فيفعلونه، والشر فيتركونه. فإذا كنتَ بهذه المنزلة؛ كان الواجبُ عليهم المبادرةَ إلى الإيمان بك وشكرِ هذه النعمة التي لا يُقادَرُ قَدْرُها ولا يُدْرَك شُكرها. وإنذارُه للعرب لا ينفي أنْ يكون مرسَلاً لغيرِهم؛ فإنَّه عربيٌّ، والقرآن الذي نزل عليه عربيٌّ، وأول من باشر بدعوته العرب، فكانت رسالتُه لهم أصلاً ولغيرِهم تبعاً؛ كما قال تعالى: {أكان للناس عَجَباً أنْ أوْحَيْنا إلى رجل منهم أنْ أنذِرِ الناس}، {قلْ يا أيُّها الناسُ إنِّي رسولُ الله إليكُم جميعاً}.