تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 41

وَ جَعَلۡنٰہُمۡ اَئِمَّۃً یَّدۡعُوۡنَ اِلَی النَّارِ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۴۱﴾
اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ En
اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں) کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن اُن کی مدد نہیں کی جائے گی
En
اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کیے جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَیَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجعلناهم أئمةً يدعون إلى النار}؛ أي: جعلنا فرعونَ وملأه من الأئمة الذين يُقتدى بهم، ويُمشَى خلفَهم إلى دار الخزي والشقاء. {ويوم القيامةِ لا يُنْصَرونَ}: من عذاب الله؛ فهم أضعف شيء عن دفعه عن أنفسهم، وليس لهم من دون الله من وليٍّ ولا نصيرٍ.