تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَخَذْنٰهُوَجُنُوْدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذْنٰهُمْفِیالْیَمِّ١ۚفَانْ٘ظُ٘رْؔكَیْفَكَانَعَاقِبَةُالظّٰلِمِیْنَ ﴾”پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔“ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأخَذْناه وجنودَه}: عندما استمرَّ عنادُهُم وبَغْيُهم، {فَنبَذْناهم في اليمِّ فانظُرْ كيفَ كان عاقبةُ الظالمينَ}: كانت أشرَّ العواقبِ وأخسرَها عاقبةً، أعقبتْها العقوبةُ الدنيويَّة المستمرَّة المتَّصلة بالعقوبة الأخرويَّة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔