تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 40

فَاَخَذۡنٰہُ وَ جُنُوۡدَہٗ فَنَبَذۡنٰہُمۡ فِی الۡیَمِّ ۚ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾
تو ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا، پھر انھیں سمندر میں پھینک دیا۔ سودیکھ ظالموں کا انجام کیسا تھا۔ En
تو ہم نے اُن کو اور اُن کے لشکروں کو پکڑلیا اور دریا میں ڈال دیا۔ سو دیکھ لو ظالموں کا کیسا انجام ہوا
En
بالﺂخر ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا برد کر دیا، اب دیکھ لے کہ ان گنہگاروں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَخَذْنٰهُ وَجُنُوْدَهٗ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْ٘ظُ٘رْؔ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأخَذْناه وجنودَه}: عندما استمرَّ عنادُهُم وبَغْيُهم، {فَنبَذْناهم في اليمِّ فانظُرْ كيفَ كان عاقبةُ الظالمينَ}: كانت أشرَّ العواقبِ وأخسرَها عاقبةً، أعقبتْها العقوبةُ الدنيويَّة المستمرَّة المتَّصلة بالعقوبة الأخرويَّة.