تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلَمَّاتَوَجَّهَتِلْقَآءَمَدْیَنَ ﴾ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَعَسٰؔىرَبِّیْۤاَنْیَّهْدِیَنِیْسَوَآءَؔالسَّبِیْلِ ﴾”کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔“ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولمَّا توجَّهَ تِلْقاءَ مَدْيَنَ}؛ أي: قاصداً بوجهه مدينَ، وهو جنوبي فلسطين؛ حيث لا ملك لفرعون، {قال عسى ربِّي أن يَهْدِيَني سواءَ السبيل}؛ أي: وسط الطريق المختصر الموصل إليها بسهولةٍ ورفقٍ. فهداه الله سواء السبيل، فوصل إلى مَدْيَنَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔