تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 22

وَ لَمَّا تَوَجَّہَ تِلۡقَآءَ مَدۡیَنَ قَالَ عَسٰی رَبِّیۡۤ اَنۡ یَّہۡدِیَنِیۡ سَوَآءَ السَّبِیۡلِ ﴿۲۲﴾
اور جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا میرا رب قریب ہے کہ مجھے سیدھے راستے پر لے جائے۔ En
اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے
En
اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راه لے چلے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ یعنی جب آپ نے مدین جانے کا ارادہ کیا۔ مدین جنوبی فلسطین میں واقع تھا جہاں فرعون کی عملداری نہ تھی۔ ﴿قَالَ عَسٰؔى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَؔ السَّبِیْلِ کہنے لگے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ بتائے۔ یعنی معتدل اور مختصر راستہ جو نہایت آسانی اور سہولت سے مدین پہنچاتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو سیدھا اور مختصر راستہ دکھایا اور وہ مدین پہنچ گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولمَّا توجَّهَ تِلْقاءَ مَدْيَنَ}؛ أي: قاصداً بوجهه مدينَ، وهو جنوبي فلسطين؛ حيث لا ملك لفرعون، {قال عسى ربِّي أن يَهْدِيَني سواءَ السبيل}؛ أي: وسط الطريق المختصر الموصل إليها بسهولةٍ ورفقٍ. فهداه الله سواء السبيل، فوصل إلى مَدْيَنَ.