تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَخَرَجَمِنْهَاخَآىِٕفًایَّتَرَقَّبُ ﴾”پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے“ اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّنَجِّنِیْمِنَالْقَوْمِالظّٰلِمِیْنَ ﴾”میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔“ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فخرج منها خائفاً يترقَّب}: أن يُوْقَعَ به القتلُ، ودعا الله و {قال ربِّ نَجِّني من القوم الظالمينَ}: فإنَّه قد تاب من ذنبِهِ، وفعله غضباً من غير قصدٍ منه للقتل؛ فتوعُّدُهم له ظلمٌ منهم وجراءةٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔