تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 21

فَخَرَجَ مِنۡہَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ ۫ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۲۱﴾
تو وہ ڈرتا ہوا اس سے نکل پڑا، انتظار کرتا تھا، کہا اے میرے رب! مجھے ان ظالم لوگوں سے بچالے۔ En
موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔
En
پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزده ہوکر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے، کہنے لگے اے پروردگار! مجھے ﻇالموں کے گروه سے بچا لے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَخَرَجَ مِنْهَا خَآىِٕفًا یَّتَرَقَّبُ پس اس بات سے ڈرتے ہوئے (کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے) اس شہر سے نکل پڑے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی: ﴿ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ میرے رب! مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔ کیونکہ اب وہ اپنے اس فعل سے توبہ کر چکے ہیں جس کا انھوں نے بغیر کسی قصدوارادہ کے غصے کی حالت میں ارتکاب کیا تھا اب ان کا آپ کو دھمکی دینا ظلم اور زیادتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فخرج منها خائفاً يترقَّب}: أن يُوْقَعَ به القتلُ، ودعا الله و {قال ربِّ نَجِّني من القوم الظالمينَ}: فإنَّه قد تاب من ذنبِهِ، وفعله غضباً من غير قصدٍ منه للقتل؛ فتوعُّدُهم له ظلمٌ منهم وجراءةٌ.