غرض اس نے شہر میں ڈرتے ہوئے صبح کی، انتظار کرتا تھا، تو اچانک وہی شخص جس نے کل اس سے مدد مانگی تھی، اس سے فریاد کر رہا تھا۔ موسیٰ نے اس سے کہا یقینا تو ضرور کھلا گمراہ ہے۔
En
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے
صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے کو شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راه ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے وہ شخص قتل ہو گیا جو آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا ﴿ فَاَصْبَحَفِیالْمَدِیْنَةِخَآىِٕفًایَّتَرَقَّبُ ﴾”تو وہ صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے۔“ کہ آیا آل فرعون کو اس قتل کے بارے میں علم ہوا ہے یا نہیں؟ … اور آپ کو خوف صرف اس لیے تھا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسرائیلیوں میں سے ہیں اور ان حالات میں، ان کے سوا کوئی اور شخص یہ اقدام کرنے کی جرأ ت نہیں کر سکتا تھا۔ ابھی وہ اس حال ہی میں تھے کہ ﴿فَاِذَاالَّذِیاسْتَنْصَرَهٗبِالْاَمْسِیَسْتَصْرِخُهٗ﴾”یکایک وہ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے کل آپ کو (اپنے دشمن کے خلاف) مدد کے لیے پکارا آج پھر (ایک اور قبطی کے خلاف) مدد کے لیے پکار رہا ہے۔“﴿ قَالَلَهٗمُوْسٰۤى ﴾ تو موسیٰ علیہ السلام نے اس کے حال پر اس کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہا۔ ﴿ اِنَّكَلَغَوِیٌّمُّبِیْنٌ ﴾ یعنی تم کھلے گمراہ اور واضح طور پر برائی کے ارتکاب کی جرأ ت کرنے والے ہو۔
﴿ فَلَمَّاۤاَنْاَرَادَاَنْیَّبْطِشَ ﴾”پھر جب اس نے پکڑنے کا ارادہ کیا“ یعنی موسیٰ علیہ السلام نے ﴿ بِالَّذِیْهُوَعَدُوٌّلَّهُمَا﴾”اس آدمی کو جو ان دونوں کا دشمن تھا“ یعنی موسیٰ علیہ السلام اور جھگڑا کرنے والے اس اسرائیلی کے دشمن کو جس نے موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارا تھا، یعنی قبطی اور اسرائیلی کے درمیان جھگڑا جاری رہا اور اسرائیلی موسیٰ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارتا رہا اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حمیت نے آ لیا حتیٰ کہ انھوں نے اس قبطی کو پکڑنا چاہا ﴿ قَالَ ﴾”کہا“ قبطی نے اپنے قتل پر موسیٰ علیہ السلام کو زجروتوبیخ کرتے ہوئے: ﴿ یٰمُوْسٰۤىاَتُرِیْدُاَنْتَقْتُلَنِیْؔكَمَاقَتَلْتَنَفْسًۢابِالْاَمْسِ١ۖ ۗ اِنْتُرِیْدُاِلَّاۤاَنْتَكُوْنَجَبَّارًؔافِیالْاَرْضِ ﴾”اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا، تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم و ستم کرتے پھرو۔“ کیونکہ زمین میں جابروں اور متکبروں کی سب سے بڑی علامت، ناحق قتل کرنا ہے۔
﴿ وَمَاتُرِیْدُاَنْتَكُوْنَمِنَالْمُصْلِحِیْنَ ﴾”اور یہ نہیں چاہتے کہ تم نیکو کاروں میں سے ہوجاؤ۔“ ورنہ اگر تم اصلاح چاہتے تو کسی ایک کو قتل کرنے کا ارادہ كيے بغیر میرے اور اس کے درمیان حائل ہو جاتے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام اس کو قتل کرنے کے ارادے سے باز آ گئے اور اس کے وعظ اور زجروتوبیخ کی بنا پر رک گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا جرى منه قَتْلُ الذي هو من عدوِّه؛ أصبح {في المدينةِ خائفاً يترقَّبُ}: هل يشعرُ به آلُ فرعون أم لا؟ وإنما خاف لأنَّه قد عَلِمَ أنَّه لا يتجرأ أحدٌ على مثل هذه الحال سوى موسى من بني إسرائيل. فبينما هو على تلك الحال؛ {فإذا الذي استنصره بالأمس}: على عدوِّه. {يَسْتَصْرِخُه}: على قبطيٍّ آخر، {قال له موسى}: موبخاً على حاله: {إنَّك لَغَوِيٌ مبينٌ}؛ أي: بَيِّنُ الغواية ظاهر الجراءة، {فلما أن أراد أن يبطش}: موسى {بالذي هو عدو لهما}: أي له وللمخاصِم المستصرِخ لموسى؛ أي: لم يزل اللجاجُ بين القبطيِّ والإسرائيليِّ، وهو يستغيثُ بموسى، فأخذته الحميَّة، حتى همَّ أن يبطشَ بالقبطي، فَـ {قَالَ} له القبطيُّ زاجراً له عن قتله: {أتريدُ أن تَقْتُلَني كما قَتَلْت نفساً بالأمس إن تريدُ إلاَّ أن تكونَ جبَّاراً في الأرض}: لأنَّ من أعظم آثارِ الجبَّارِ في الأرض قتلَ النفس بغير حق. {وما تريدُ أن تكونَ من المصلِحين}: وإلاَّ؛ فلو أردت الإصلاح؛ لَحُلْتَ بيني وبينَه من غير قتل أحدٍ. فانكفَّ موسى عن قتلِهِ، وارْعوى لوعظِهِ وزجرِهِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔