تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”تم بڑے فتنہ آدمی ہو۔“ یہ سنتے ہی وہ گھبرا گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے اس ظالم قبطی کو روکنے کے لیے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو یہ شخص اپنے کمینہ پن اور بزدلی سے سمجھ بیٹھا کہ آپ علیہ السلام نے مجھے برا کہا ہے اور مجھے پکڑنا چاہتے ہیں اپنی جان بچانے کے لیے شور مچانا شروع کر دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیا جیسے تو نے کل ایک شخص کا خون کیا تھا آج میری جان بھی لینا چاہتا ہے؟
کل کا واقعہ صرف اسی کی موجودگی میں ہوا تھا اس لیے اب تک کسی کو پتہ نہ چلا تھا؟ لیکن آج اس کی زبان سے اس قبطی کو پتہ چلا کہ یہ کام موسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ اس بزدل ڈرپوک نے یہ بھی ساتھ ہی کہا کہ تو زمین پر سرکش بن کر رہنا چاہتا ہے اور تیری طبعیت میں ہی صلح پسندی نہیں۔ قبطی یہ سن کر بھاگا دوڑا دربار فرعونی میں پہنچا اور وہاں مخبری کی۔ فرعون کی بددلی کی اب کوئی حد نہ رہی اور فوراً سپاہی دوڑائے کہ موسیٰ علیہ السلام کو لا کر پیش کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلمَّا جرى منه قَتْلُ الذي هو من عدوِّه؛ أصبح {في المدينةِ خائفاً يترقَّبُ}: هل يشعرُ به آلُ فرعون أم لا؟ وإنما خاف لأنَّه قد عَلِمَ أنَّه لا يتجرأ أحدٌ على مثل هذه الحال سوى موسى من بني إسرائيل. فبينما هو على تلك الحال؛ {فإذا الذي استنصره بالأمس}: على عدوِّه. {يَسْتَصْرِخُه}: على قبطيٍّ آخر، {قال له موسى}: موبخاً على حاله: {إنَّك لَغَوِيٌ مبينٌ}؛ أي: بَيِّنُ الغواية ظاهر الجراءة، {فلما أن أراد أن يبطش}: موسى {بالذي هو عدو لهما}: أي له وللمخاصِم المستصرِخ لموسى؛ أي: لم يزل اللجاجُ بين القبطيِّ والإسرائيليِّ، وهو يستغيثُ بموسى، فأخذته الحميَّة، حتى همَّ أن يبطشَ بالقبطي، فَـ {قَالَ} له القبطيُّ زاجراً له عن قتله: {أتريدُ أن تَقْتُلَني كما قَتَلْت نفساً بالأمس إن تريدُ إلاَّ أن تكونَ جبَّاراً في الأرض}: لأنَّ من أعظم آثارِ الجبَّارِ في الأرض قتلَ النفس بغير حق. {وما تريدُ أن تكونَ من المصلِحين}: وإلاَّ؛ فلو أردت الإصلاح؛ لَحُلْتَ بيني وبينَه من غير قتل أحدٍ. فانكفَّ موسى عن قتلِهِ، وارْعوى لوعظِهِ وزجرِهِ.