تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 75

وَ مَا مِنۡ غَآئِبَۃٍ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۵﴾
اور آسمان و زمین میں کوئی غائب چیز نہیں مگر وہ ایک واضح کتاب میں موجود ہے۔ En
اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
En
آسمان وزمین کی کوئی پوشیده چیز بھی ایسی نہیں جو روشن اور کھلی کتاب میں نہ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمَا مِنْ غَآىِٕبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ یعنی آسمان و زمین کی کوئی چھپی ہوئی چیز اور عالم علوی اور عالم سفلی کا کوئی بھید ایسا نہیں جو ﴿ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ واضح کتاب میں نہ ہو۔ اس کتاب نے ان تمام امور و حوادث کا احاطہ کر رکھا ہے جو اب تک وقوع میں آ چکے ہیں اور جو قیامت تک واقع ہوں گے۔ پس جو بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ وقوع میں آتا ہے وہ اس کے مطابق ہوتا ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وما من غائبةٍ في السماء والأرض}؛ أي: خفيَّةٍ وسرٍّ من أسرار العالم العلويِّ والسفليِّ {إلاَّ في كتابٍ مبينٍ}: قد أحاط ذلك الكتابُ بجميع ما كان ويكون إلى أن تقومَ الساعةُ؛ فكل حادث يحدث جليٍّ أو خفيٍّ؛ إلاَّ وهو مطابقٌ لما كتب في اللوح المحفوظ.