تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 74

وَ اِنَّ رَبَّکَ لَیَعۡلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوۡرُہُمۡ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۴﴾
اور بے شک تیرا رب یقینا جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ En
اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے
En
بیشک آپ کا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپا رہے ہیں اور جنہیں ﻇاہر کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ اور بلاشبہ جو باتیں ان کے سینے چھپاتے ہیں، تمھارا رب ان کو جانتا ہے۔ یعنی جو ان کے سینوں میں جمع ہے ﴿ وَمَا یُعْلِنُوْنَ اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے انھیں اس ہستی سے ڈرنا چاہیے جو ظاہر و باطن کا علم رکھتی ہے اور اس سے خوف کھانا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّ ربَّك لَيعلمُ ما تُكِنُّ}؛ أي: تنطوي عليه {صدورُهم وما يُعْلِنون}: فليحذروا من عالم السَّرائر والظَّواهر وليراقبوه.