تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 72

قُلۡ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ رَدِفَ لَکُمۡ بَعۡضُ الَّذِیۡ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
کہہ دے قریب ہے کہ تمھارے پیچھے آپہنچا ہو اس کا کچھ حصہ جو تم جلدی مانگ رہے ہو۔ En
کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو
En
جواب دیجئے! کہ شاید بعض وه چیزیں جن کی تم جلدی مچا رہے ہو تم سے بہت ہی قریب ہوگئی ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ یعنی ہو سکتا ہے وہ وقت مقرر قریب آ گیا ہو اور ہو سکتا ہے وہ تم پر واقع ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠ یعنی وہ عذاب جس کے لیے تم جلدی مچاتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل عسى أن يكونَ رَدِفَ لكم}؛ أي: قرب منكم وأوشك أن يقعَ بكم {بعضُ الذي تستعجِلونَ}: من العذاب.