تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 71

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۷۱﴾
اور وہ کہتے ہیں کب ( پورا) ہوگا یہ وعدہ، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟
En
کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہے اگر سچے ہو تو بتلا دو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

آخرت اور اس حق کو جھٹلانے والے جسے لے کر رسول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے ہیں، عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ یہ ان کی جہالت اور حماقت پر مبنی رائے ہے کیونکہ اس وعدے کا وقوع اور اس کا وقت اللہ تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے مطابق مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا جلدی نہ آنا ان کے کسی مطلوب و مقصود پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ساتھ جس بارے میں وہ جلدی مچاتے ہیں اس کے بارے میں ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويقولُ المكذِّبون بالمَعاد وبالحقِّ الذي جاء به الرسولُ مستعجلينَ للعذاب: {متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}: وهذا من سفاهة رأيِهِم وجهلِهِم؛ فإنَّ وقوعَه ووقتَه قد أجَّله الله بأجَلِهِ وقَدَّرَه بقدرٍ؛ فلا يدلُّ عدم استعجاله على بعض مطلوبهم، ولكن مع هذا قال تعالى محذِّراً لهم وقوعَ ما يستعجِلون: