تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 67

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہم ضرور نکالے جانے والے ہیں؟ En
اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے
En
کافروں نے کہا کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی کیا ہم پھر نکالے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبً٘ا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انھوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {وقال الذين كفروا أإذا كُنَّا تراباً وآباؤنا أإنَّا لَمُخْرَجونَ}؛ أي: هذا بعيدٌ غير ممكن؛ قاسوا قدرة كامل القدرة بقُدَرِهِم الضعيفة.