تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 66

بَلِ ادّٰرَکَ عِلۡمُہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۟ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡہَا ۫۟ بَلۡ ہُمۡ مِّنۡہَا عَمُوۡنَ ﴿٪۶۶﴾
بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں گم ہو گیا ہے، بلکہ وہ اس کے بارے میں شک میں ہیں، بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں۔ En
بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں
En
بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہوچکا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور ﴿ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّؔنْهَا بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ یعنی آخرت کے بارے میں۔ شک علم کو زائل کر دیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ ﴿ بَلْ هُمْ مِّؔنْهَا بلکہ وہ اس سے۔ یعنی آخرت کے بارے میں ﴿ عَمُوْنَ اندھے ہیں۔ ان کی بصیرتیں ختم ہو گئیں۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بل ادَّارَكَ علمُهم في الآخرة}؛ أي: بل ضَعُفَ وقلَّ ولم يكن يقيناً ولا علماً واصلاً إلى القلب، وهذا أقلُّ وأدنى درجة للعلم، ضعفه ووهاؤه، بل ليس عندهم علمٌ ولا ضعيفٌ، وإنما {هم في شكٍّ منها}؛ أي: من الآخرة، والشكُّ زال به العلم؛ لأنَّ العلم بجميع مراتبه لا يُجامِعُ الشكَّ. {بل هم منها}؛ أي: من الآخرة {عَمونَ}: قد عَمِيَتْ عنها بصائِرُهم، ولم يكنْ في قلوبهم من وقوعها، ولا احتمالٌ، بل أنكروها واستبعَدوها.