تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَنْجَیْنٰهُوَاَهْلَهٗۤاِلَّاامْرَاَتَهٗ١ٞقَدَّرْنٰهَامِنَالْغٰؔبِرِیْنَ﴾”پس ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا تھا کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی۔“ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب مہمانوں کی شکل میں فرشتے لوط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی قوم کو ان (خوبصورت) مہمانوں کی آمد کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ برائی کے ارادے سے لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ لوط علیہ السلام نے دروازہ بند کر لیا اور ان پر معاملہ بہت شدت اختیار کر گیا، پھر فرشتوں نے لوط علیہ السلام کو صورت حال سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ وہ انھیں ان سے بچانے اور ان بدکاروں کو ہلاک کرنے آئے ہیں اور ان کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انھوں نے لوط علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے سوا تمام گھر والوں کو لے کر راتوں رات یہاں سے نکل جائیں کیونکہ ان کی بیوی پر بھی وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو بستی والوں پر نازل ہو گا۔ لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات بستی سے نکل گئے اور بچ گئے اور صبح ہوتے ہی یک دم عذاب نے بستی کو آ لیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی بستی کو تلپٹ کر دیا اور اوندھا کر کے اوپر کے حصے کو نیچے کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر تابڑ توڑ کھنگر کے پتھر برسائے جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا: ﴿وَاَمْطَرْنَاعَلَیْهِمْمَّطَرًا١ۚفَسَآءَمَطَرُالْمُنْذَرِیْنَ﴾”اور ہم نے ان پر مینہ برسایا پس (جو) مینہ ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر برسایا گیا وہ بہت برا تھا۔“ یعنی بہت بری تھی وہ بارش جو ان پر برسائی گئی اور بہت برا تھا وہ عذاب جو ان پر نازل کیا گیا۔ ان کو ڈرایا گیا اور خوف دلایا گیا مگر وہ بدکاری سے رکے نہ باز آئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان پر انتہائی سخت عذاب نازل کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال تعالى: {فأنجَيْناه وأهلهَ إلاَّ امرأتَه قَدَّرْناها من الغابرينَ}: وذلك لمَّا جاءتْه الملائكةُ في صورة أضيافٍ، وسمع بهم قومُه، فجاؤوا إليه يريدونَهم بالشرِّ، وأغلق الباب دونَهم، واشتدَّ الأمر عليه، ثم أخبرتْهم الملائكةُ عن جليَّة الحال، وأنَّهم جاؤوا لاستنقاذِهِ وإخراجِهِ من بين أظهُرِهم، وأنَّهم يريدون إهلاكَهم، وأنَّ موعِدَهم الصبح، وأمروه أن يسريَ بأهلِهِ ليلاً إلاَّ امرأتَهَ؛ فإنَّه سيصيبُها ما أصابهم، فخرج بأهلِهِ ليلاً، فنجوا، وصبَّحَهم العذابُ، فقلبَ الله عليهم ديارَهم، وجعل أعلاها أسفلها، وأمطر عليهم حجارةً من سجِّيلٍ منضودٍ مسوَّمَةً عند ربِّك، ولهذا قال هنا: {وأمْطَرْنا عليهم مطراً فساء مَطَرُ المُنذَرين}؛ أي: بئس المطرُ مطرُهم، وبئس العذابُ عذابُهم؛ لأنَّهم أُنْذِروا وخوِّفوا فلم ينزَجِروا ولم يرتَدِعوا، فأحلَّ الله بهم عقابَه الشديد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔