تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ ابو حیان اندلسی نے فرمایا کہ لوط علیہ السلام کے قصے سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ پورے قرآن میں لوط علیہ السلام کے انھیں اس بے حیائی سے روکنے ہی کا ذکر ہے، توحید کی دعوت کا ذکر نہیں، اس کی وجہ یا تو یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتے ہوں، لیکن اس برے کام کی ایجاد اور اپنے رسول کو جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب آیا ہو، جیسا کہ سورۂ شعراء میں ہے: «{ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ المُرْسَلِيْنَ}» [الشعراء: ۱۶۰]”لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔“ یا یہ وجہ ہے کہ وہ تھے تو مشرک لیکن جب لوط علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ بہیمیت میں بلکہ اس سے بھی نیچے درجے میں گر چکے ہیں، تو ضروری سمجھا کہ پہلے انھیں انسانیت کے رتبے کی دعوت دی جائے، پھر توحید کی دعوت دی جائے۔ (البحر المحیط)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال تعالى: {فأنجَيْناه وأهلهَ إلاَّ امرأتَه قَدَّرْناها من الغابرينَ}: وذلك لمَّا جاءتْه الملائكةُ في صورة أضيافٍ، وسمع بهم قومُه، فجاؤوا إليه يريدونَهم بالشرِّ، وأغلق الباب دونَهم، واشتدَّ الأمر عليه، ثم أخبرتْهم الملائكةُ عن جليَّة الحال، وأنَّهم جاؤوا لاستنقاذِهِ وإخراجِهِ من بين أظهُرِهم، وأنَّهم يريدون إهلاكَهم، وأنَّ موعِدَهم الصبح، وأمروه أن يسريَ بأهلِهِ ليلاً إلاَّ امرأتَهَ؛ فإنَّه سيصيبُها ما أصابهم، فخرج بأهلِهِ ليلاً، فنجوا، وصبَّحَهم العذابُ، فقلبَ الله عليهم ديارَهم، وجعل أعلاها أسفلها، وأمطر عليهم حجارةً من سجِّيلٍ منضودٍ مسوَّمَةً عند ربِّك، ولهذا قال هنا: {وأمْطَرْنا عليهم مطراً فساء مَطَرُ المُنذَرين}؛ أي: بئس المطرُ مطرُهم، وبئس العذابُ عذابُهم؛ لأنَّهم أُنْذِروا وخوِّفوا فلم ينزَجِروا ولم يرتَدِعوا، فأحلَّ الله بهم عقابَه الشديد.