تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 55

اَئِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۵۵﴾
کیا بے شک تم واقعی عورتوں کو چھوڑ کر شہوت سے مردوں کے پاس آتے ہو، بلکہ تم ایسے لوگ ہو کہ جہالت برتتے ہو۔ En
کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر (لذت حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو
En
یہ کیا بات ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو حق یہ ہے کہ تم بڑی ہی نادانی کر رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس (فاحشۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَىِٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت کے لیے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ یعنی تم اس حالت کو کیسے پہنچ گئے کہ تمھاری شہوت مردوں اور ان کی پیٹھوں، جو کہ غلاظت و خباثت کا مقام ہیں، کی طرف منتقل ہو گئی ہے اور اللہ نے تمھارے لیے جو عورتیں اور ان کی پاکیزہ چیزیں پیدا کیں، تم نے ان کو چھوڑ دیا جن کی طرف میلان نفوس کی جبلت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ تمھارا معاملہ بالکل الٹ ہو گیا تم نے برے کو اچھا اور اچھے کو برا بنا دیا ﴿ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ حقیقت یہ ہے کہ تم جاہل لوگ ہو۔ تم اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والے اور اس کے محارم کو توڑنے کی جسارت کرنے والے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فسَّر تلك الفاحشةَ فقال: {أإنَّكم لتأتونَ الرجالَ شهوةً من دون النساء}؛ أي: كيف توصَّلْتم إلى هذه الحال، فصارت شهوتُكم للرجال وأدبارِهم محلِّ الغائط والنجوِ والخبثِ، وتركتُم ما خلقَ اللهُ لكم من النساء من المحالِّ الطيِّبة التي جُبِلَتِ النفوس إلى الميل إليها، وأنتم انقلبَ عليكم الأمرُ، فاستحسنتُم القبيح، واستقبحْتُم الحسن؟! {بل أنتم قومٌ [مسرفون] }: متجاوِزون لحدود الله متجرِّئون على محارمه.