تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 54

وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ وَ اَنۡتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اور لوط کو جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم بے حیائی کو آتے ہو، جب کہ تم دیکھتے ہو۔ En
اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو
En
اور لوط کا (ذکر کر) جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہاکہ کیا باوجود دیکھنے بھالنے کے پھر بھی تم بدکاری کر رہے ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہمارے بندے اور رسول لوط علیہ السلام کا ذکر کیجیے اور ان کے فضیلت والے واقعات کی خبر دیجیے۔ جب انھوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے اور ان کی خیرخواہی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ کیا تم بے حیائی کرتے ہو؟ یعنی تم ایک ایسا گندہ کام کرتے ہو جسے عقل و فطرت انتہائی فحش اور شریعت قبیح گردانتی ہے۔ ﴿ وَاَنْتُمْ تُ٘بْصِرُوْنَ اور تم دیکھتے ہو اور اس کی قباحت کو جانتے ہو۔ تم نے عناد، ظلم اور اللہ تعالیٰ کے حضور جسارت کی بنا پر اس گناہ کا ارتکاب کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واذكرْ عبدَنا ورسولَنا لوطاً ونبأه الفاضلَ حين قال لقومِهِ داعياً لهم إلى الله وناصحاً: {أتأتونَ الفاحشةَ}؛ أي: الفَعْلَةَ الشنعاء التي تستفحِشُها العقولُ والفطرُ وتستقبِحُها الشرائع. {وأنتُم تبصِرونَ}: ذلك وتعلمونَ قُبحَه، فعاندتم وارتكَبْتُم ذلك ظلماً منكم وجرأةً على الله.