تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النمل (27) — آیت 2

ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں۔ En
مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت
En
ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے لیے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں۔
اس لیے فرمایا: ﴿ هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْ٘مُؤْمِنِیْنَ۠ مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن مع هذا؛ لم ينتفعْ بها كثيرٌ من العالمين، ولم يهتدِ بها جميع المعاندين؛ صوناً لها عن من لا خير فيه ولا صلاح ولا زكاء في قلبه، وإنما اهتدى بها من خصَّهم الله بالإيمان واستنارتْ بذلك قلوبهم وصَفَتْ سرائرُهم، فلهذا قال: {هدىً وبُشرى للمؤمنينَ}؛ أي: تهديهم إلى سلوك الصراط المستقيم، وتبيِّن لهم ما ينبغي أن يَسْلُكوه أو يَتْرُكوه، وتبشِّرهم بثواب الله. المرتَّب على الهداية لهذا الطريق.