ہُدًی وَّ بُشۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں۔
En
مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت
En
ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے لیے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 3،2) {هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ…:} ان آیات کی تفسیر کے لیے سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات (۲ تا ۴) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ جو ان ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت [2] اور بشارت ہیں۔
[2] اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی صفات بیان کرتے ہوئے ہدایت دینے والی یا بشارت دینے والی کے بجائے صرف ہدایت اور بشارت فرمایا۔ گویا یہ کتاب مجسم ہدایت اور مجسم بشارت ہے۔ اور ان الفاظ کے استعمال میں بلاغت بھی ہے اور فضاحت بھی۔ البتہ یہ کتاب ہدایت اور بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ سمجھتے ہیں اور اللہ پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ اور جو سرے سے اسے اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہ سمجھیں۔ ان کے لئے نہ یہ ہدایت بن سکتی ہے اور نہ بشارت۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر سورۂ نمل ٭٭
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورۃ البقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اس کی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لیے ہدایت وبشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔
یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ کو بھی نہیں روکتے، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چنانچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لیے تو یہ قرآن ہدایت اور شفاہے اور بے ایمانوں کے کان تو بہرے ہیں ان میں روئی دئیے ہوئے ہیں۔
اس سے خوشخبری پرہیزگاروں کو ہے اور بدکرداروں کو اس میں ڈراوا ہے۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ جو اسے جھٹلائیں اور قیامت کے آنے کو نہ مانیں ہم بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں ان کی برائیاں انہیں اچھی لگنے لگتی ہیں۔ اسی میں وہ بڑھتے اور پھولتے پھلتے رہتے ہیں اور اپنی سرکشی اور گمراہی میں بڑھتے رہتے ہیں۔ ان کی نگاہیں اور دل الٹ جاتے ہیں انہیں دنیا اور آخرت میں بدترین سزائیں ہونگی اور قیامت کے دن تمام اہل محشر میں سب سے زیادہ خسارے میں یہی رہیں گے
بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:1][6-الأنعام:115]
بیشک آپ اے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ہی قرآن لے رہے ہیں۔ ہم حکیم ہیں امرو نہی کی حکمت کو بخوبی جانتے ہیں علیم ہیں چھوٹے بڑے تمام کاموں سے بخوبی خبردار ہیں۔ پس قرآن کی تمام خبریں بالکل صدق وصداقت والی ہیں اور اس کے حکم احکام سب کے سب سراسر عدل والے ہیں جیسے فرمان ہے آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» ۱؎ [6-الأنعام:1][6-الأنعام:115]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ رہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بے بہرہ ہیں۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں۔
اس لیے فرمایا: ﴿ هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْ٘مُؤْمِنِیْنَ۠ ﴾ ”مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔“ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انھیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكن مع هذا؛ لم ينتفعْ بها كثيرٌ من العالمين، ولم يهتدِ بها جميع المعاندين؛ صوناً لها عن من لا خير فيه ولا صلاح ولا زكاء في قلبه، وإنما اهتدى بها من خصَّهم الله بالإيمان واستنارتْ بذلك قلوبهم وصَفَتْ سرائرُهم، فلهذا قال: {هدىً وبُشرى للمؤمنينَ}؛ أي: تهديهم إلى سلوك الصراط المستقيم، وتبيِّن لهم ما ينبغي أن يَسْلُكوه أو يَتْرُكوه، وتبشِّرهم بثواب الله. المرتَّب على الهداية لهذا الطريق.