تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
فرمایا: اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خبر سنا دیجیے اور ان کی جلیل القدر خبر، خاص طور پر ان حالات میں سنا دیجیے! اگرچہ ان کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لیے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِذْقَالَلِاَبِیْهِوَقَوْمِهٖمَاتَعْبُدُوْنَقَالُوْا﴾”جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انھوں نے کہا“ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے: ﴿ نَعْبُدُاَصْنَامًا﴾”ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں “ جن کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے تراشتے اور بناتے ہیں ﴿ فَنَظَلُّلَهَاعٰكِفِیْنَ ﴾”اور ان کی پوجا پر قائم ہیں۔“ یعنی ہم اپنے اکثر اوقات میں، ان بتوں کی عبادت کے لیے قیام کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وَاتْلُ يا محمدُ على الناس نبأ إبراهيم الخليل وخَبَرَه الجليل في هذه الحالة بخصوصها، وإلاَّ؛ فله أنباءٌ كثيرة، ولكن من أعجب أنبائِهِ وأفضلِها هذا النبأُ المتضمنُ لرسالتِهِ ودعوتِهِ قومَه ومحاجَّتِهِ إيَّاهم و [إبطاله] ما هم عليه، ولذلك قيَّدَه بالظرفِ فقال: {إذْ قال لأبيهِ وقومِهِ ما تَعْبُدونَ. قالوا}: متبجِّحين بعبادتِهِم: {نعبدُ أصناماً}: ننحِتُها ونَعْمَلُها بأيدينا، {فنظلُّ لها عاكفينَ}؛ أي: مقيمين على عبادتها في كثيرٍ من أوقاتنا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔