تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 63

فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡبَحۡرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۶۳﴾
تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار، پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔ En
اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)
En
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ پس ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر لاٹھی مارو۔ تو آپ نے عصا مارا ﴿ فَانْفَلَقَ پس وہ (سمندر) پھٹ گیا۔ اور بارہ راستے بن گئے ﴿ فَكَانَ كُ٘لُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ اور ہر ایک (یوں) ہو گیا کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔ اور موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم سمندر میں داخل ہو گئی۔ ﴿ وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ اور وہاں ہم نے قریب کر دیا۔ یعنی اسی جگہ ﴿ الْاٰخَرِیْنَ دوسروں کو یعنی ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قریب کر کے ان راستوں میں ڈال دیا جہاں سے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم نے سمندر کو پار کیا تھا۔ ﴿ وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰؔى وَمَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَ اور ہم نے موسیٰ اور ان کے تمام ساتھیوں کو بچا لیا۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کے تمام لوگ باہر آ گئے اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہا۔ ﴿ ثُمَّ اَغْ٘رَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ پھر دوسروں کو ڈبو دیا۔ یعنی فرعون کی قوم میں سے کوئی شخص بھی ڈوبنے سے نہ بچا ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً اس میں موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کی صداقت اور فرعون اور اس کی قوم کے موقف کے بطلان پر بہت بڑی دلیل ہے۔ ﴿ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ان نشانیوں کے باوجود، جو کہ ایمان لانے کاتقاضا کرتی ہیں، ان میں سے اکثر اپنے فساد قلب کی بنا پر ایمان نہ لائے۔ ﴿ وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ الرَّحِیْمُ اور بلاشبہ آپ کا رب غالب مہربان ہے۔ یعنی اس نے اپنی قوت اور غلبہ کی بنا پر جھٹلانے والے کفار کو ہلاک کیا اور اپنی رحمت سے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأوْحَيْنا إلى موسى أنِ اضْرِب بعصاك البحرَ}: فضربه، {فانفَلَقَ}: اثني عشر طريقاً، {فكانَ كُلُّ فِرْقٍ كالطودِ}؛ أي: الجبل {العظيم}: فدخله موسى وقومُهُ، {وأزْلَفْنا ثَمَّ}: في ذلك المكان {الآخَرينَ}؛ أي: فرعون [و] قومه، وقرَّبْناهم، وأدخَلْناهم في ذلك الطريق الذي سلك منه موسى وقومه، {وأنجَيْنا موسى ومَن معه أجمعين}: استَكْمَلوا خارجين، لم يتخلَّفْ منهم أحدٌ، {ثم أغْرَقْنا الآخَرينَ}: لم يتخلَّفْ منهم عن الغرقِ أحدٌ. {إنَّ في ذلك لآيةً}: عظيمةً على صدقِ ما جاء به موسى عليه السلام وبطلانِ ما عليه فرعونُ وقومُه، {وما كان أكثرُهُم مؤمنينَ}: مع هذه الآيات المقتضيةِ للإيمان؛ لفسادِ قلوبِكم، {وإنَّ ربَّكَ لهو العزيزُ الرحيمُ}: بعزَّتِهِ أهلكَ الكافرين المكذِّبين، وبرحمتِهِ نجَّى موسى ومن معه أجمعين.