تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَرْسَلَفِرْعَوْنُفِیالْمَدَآىِٕنِحٰشِرِیْنَ ﴾”تو فرعون نے تمام شہروں میں جمع کرنے والے ہرکارے دوڑائے“ جو لوگوں کو جمع کرتے تھے تاکہ بنی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی جائے۔ فرعون نے اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہا ﴿ اِنَّهٰۤؤُلَآءِ﴾”بے شک یہ لوگ“ یعنی بنی اسرائیل ﴿ لَشِرْذِمَةٌقَلِیْلُوْنَۙ ۰۰ وَاِنَّهُمْلَنَالَغَآىِٕظُوْنَ﴾”مٹھی بھر لوگ ہیں اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔“ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان غلاموں پر اپنا غصہ نکالیں جو ہمارے پاس سے فرار ہو گئے ہیں۔ ﴿ وَاِنَّالَ٘جَمِیْعٌحٰؔذِرُوْنَ ﴾ اور ہمیں ان سے چوکنا رہنا چاہیے وہ ہم سب کے اور ہمارے مشترکہ مصالح و مفادات کے دشمن ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأرسَلَ فرعونُ في المدائن حاشرينَ}: يجمعون الناس؛ ليوقع ببني إسرائيل، ويقولُ مشجعاً لقومه: {إنَّ هؤلاءِ}؛ أي: بني إسرائيل {لَشِرْذِمَةٌ قليلونَ. وإنَّهم لَنا لَغائِظونَ}: فنريد أن ننفذَ غيظَنا في هؤلاء العبيدِ الذين أبقُوا منَّا، {وإنَّا لجميعٌ حاذِرونَ}؛ أي: الحذر على الجميع منهم، وهم أعداء للجميع، والمصلحة مشتركة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔