تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے باوجود کہ موسیٰ علیہ السلام فرعون اور اس کی قوم کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، وہ اپنے کفر پر جمے رہے۔ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی اور ان پر پوری طرح اثر انداز ہوتی، تب وہ موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان سے اس عذاب کو دور کر دیا تو وہ ان پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ بھیج دیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دیتا مگر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور ان پر عذاب الٰہی واجب ہو گیا اور وہ وقت آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کی قید و غلامی سے آزادی عطا فرمائے اور ان کو زمین (ملک) پر اقتدار عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی: ﴿ اَنْاَسْرِبِعِبَادِیْۤ﴾ یعنی رات کے پہلے حصے میں بنی اسرائیل کو لے کر نکل جائیے تاکہ ان کو نکل جانے میں کافی مہلت مل جائے۔ ﴿ اِنَّـكُمْمُّتَّبـَعُوْنَ﴾ یعنی فرعون اور اس کے لشکر تمھارا پیچھا کریں گے اور ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی۔ جب صبح کے وقت فرعونی بیدار ہوئے تو انھوں نے دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل راتوں رات موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نکل گئے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم لم يزل فرعونُ وقومُهُ مستمرِّين على كفرِهِم؛ يأتيهم موسى بالآيات البيناتِ، وكلما جاءتهم آيةٌ وبلغت منهم كلَّ مبلغ؛ وعدوا موسى وعاهَدوه لَئِنْ كشفَ اللهُ عنهم؛ ليؤمننَّ به وليرسلنَّ معه بني إسرائيل، فيكشِفُه الله، ثم ينكثونَ. فلمَّا يَئِسَ موسى من إيمانِهِم، وحقَّتْ عليهم كلمةُ العذاب، وآن لبني إسرائيل أن ينجيهم من أسرِهِم ويمكِّنَ لهم في الأرض؛ أوحى الله إلى موسى: {أنْ أسْرِ بعبادي}؛ أي: اخرُجْ ببني إسرائيلَ أولَ الليل؛ ليتمادَوْا ويتمَهَّلوا في ذَهابهم {إنَّكُم مُتَّبَعونَ}؛ أي: سيتبعُكم فرعونُ وجنودُه. ووقع كما أخبر؛ فإنَّهم لما أصبحوا، وإذا بنو إسرائيل قد سَرَوْا كلُّهم مع موسى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔