تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 46

فَاُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۶﴾
تو جادوگر نیچے گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے۔ En
تب جادوگر سجدے میں گر پڑے
En
یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب جادو گروں نے یہ عظیم معجزہ دیکھا تو انھیں یقین ہو گیا کہ یہ جادونہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور ایک معجزہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی صداقت اور ان کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿ فَاُلْ٘قِیَ السَّحَرَةُ سٰؔجِدِیْنَ پس جادوگر (اپنے رب کے حضور) سجدہ ریز ہو گئے۔ ﴿ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْ٘عٰلَمِیْنَۙ ۰۰ رَبِّ مُوْسٰؔى وَهٰرُوْنَ کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے جو موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا رب ہے۔ اس بھرے مجمع میں باطل ذلیل و خوار ہو گیا۔ باطل کے رؤسا اور سرداروں نے اس کے بطلان کا اقرار کیا۔ حق واضح ہو گیا اور غالب آ گیا حتی کہ حق کی فتح کو دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما رأى السحرةُ هذه الآية العظيمةَ؛ تيقَّنوا لعلمِهِم أن هذا ليس بسحرٍ، وإنَّما هو آيةٌ من آياتِ الله ومعجزةٌ تنبئ بصدق موسى وصحَّة ما جاء به، {فأُلْقِيَ السحرةُ ساجدينَ}: لربِّهم، {قالوا آمنَّا بربِّ العالمينَ. ربِّ موسى وهارونَ}: وانقمع الباطلُ في ذلك المجمع، وأقرَّ رؤساؤُهُ ببطلانِهِ، ووضَحَ الحقُّ وظهر، حتى رأى ذلك الناظرون بأبصارهم.