تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب مقررہ روز جادوگر، موسیٰ علیہ السلام اور اہل مصر اکٹھے ہوئے تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَیْلَكُمْلَاتَفْتَرُوْاعَلَىاللّٰهِكَذِبً٘افَیُسْحِتَكُمْبِعَذَابٍ١ۚوَقَدْخَابَمَنِافْتَرٰى ﴾ (طٰہٰ:20؍61) ”تمھارا برا ہو، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ عذاب تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا اور جو بہتان طرازی کرتا ہے وہ خائب و خاسر ہوتا ہے۔“ اس پر وہ آپس میں جھگڑنے لگے، پھر فرعون نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور انھوں نے خود بھی ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔
﴿۠ قَالَلَهُمْمُّوْسٰۤىاَلْقُوْامَاۤاَنْتُمْمُّلْ٘قُوْنَ ﴾”تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا جو تمھارے جی میں آئے اسے پھینکو۔“ آپ نے ان پر کسی جادو اور شعبدہ بازی کی قید نہیں لگائی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ حق کے مقابلے کے لیے جس شعبدہ بازی کا بھی سامان لے کر آئے ہیں، سب باطل ہے۔ ﴿ فَاَلْقَوْاحِبَالَهُمْوَعِصِیَّهُمْ﴾”تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں۔“ تو اسی وقت وہ سانپ بن کر چلنے لگیں اور اس طرح انھوں نے لوگوں کی آنکھوں کو سحر زدہ کر دیا۔ ﴿ وَقَالُوْابِعِزَّةِفِرْعَوْنَاِنَّالَنَحْنُالْغٰلِبُوْنَ ﴾”اور وہ کہنے لگے کہ فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب رہیں گے۔“ پس انھوں نے ایک کمزور بندے سے مدد طلب کی جو ہر لحاظ سے عاجز تھا، البتہ وہ جبر سے مسلط تھا اور اسے اقتدار اور فوج کی طاقت حاصل تھی۔ اس تکبر اور نخوت نے اس کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اور ان کی نظر فریب کے اس پردے کو چاک کر کے حقیقت الامر تک نہیں پہنچ سکی … یا یہ ان کی طرف سے عزت فرعون کے ساتھ قسم ہے اور ﴿اِنَّهُمْالْغٰلِبُوْنَ ﴾ مقسم علیہ ہے۔
﴿ فَاَلْ٘قٰىمُوْسٰؔىعَصَاهُفَاِذَاهِیَتَلْقَفُمَایَ٘اْفِكُوْنَ ﴾”پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی ڈالی تو یکایک وہ ان کے جھوٹے شعبدے کو نگلتی چلی گئی۔“ اور موسیٰ علیہ السلام کے عصا نے ان تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو ہڑپ کر لیا جو انھوں نے پھینکی تھیں کیونکہ ان کا جادو، سراسر بہتان، کذب اور باطل تھا جو حق کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما اجتمعوا للموعدِ هم وموسى وأهلُ مصر؛ وعَظَهم موسى وذكَّرهم وقال: {ويلَكُم لا تفتروا على الله كذباً فيُسْحِتَكم بعذابٍ وقد خابَ مَنِ افْتَرى}، فتنازعوا وتخاصموا، ثم شجَّعهم فرعونُ وشجَّع بعضُهم بعضاً، {قال لهم موسى ألقوا ما أنتم مُلْقونَ}؛ أي: ألقوا كل ما في خواطركم إلقاؤه ولم يقيده بشيءٍ دون شيءٍ لجزمه ببطلان ما جاؤوا به من معارضة الحقِّ، {فألقَوْا حبالَهُم وعِصِيَّهم}: فإذا هي حياتٌ تسعى، وسَحَروا بذلك أعين الناس. {وقالوا بعزَّة فرعونَ إنَّا لنحنُ الغالبونَ}: فاستعانوا بعزَّةِ عبدٍ ضعيفٍ عاجزٍ من كلِّ وجهٍ؛ إلاَّ أنَّه قد تجبَّر وحصلَ له صورة مُلْكٍ وجنودٍ، فغرَّتهم تلك الأبهة، ولم تنفذ بصائِرُهم إلى حقيقة الأمر، أو أنَّ هذا قَسَمٌ منهم بعزَّةِ فرعونَ، والمقسَم عليه أنَّهم غالبون، {فألقى موسى عصاه فإذا هي تَلْقَفُ}: تبتلعُ وتأخُذُ {ما يأفِكونَ}: فَالْتَقَفتْ جميعَ ما ألقَوْا من الحبال والعصيِّ؛ لأنَّها إفكٌ وكذبٌ وزورٌ، وذلك كلُّه باطلٌ لا يقوم للحقِّ ولا يقاومُه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔