تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَفِرْعَوْنُوَمَارَبُّالْعٰلَمِیْنَ﴾”فرعون نے کہا، تمام جہانوں کا مالک کیا ہے؟“ یہ فرعون کی طرف سے ظلم اور تکبر کی بنا پر اپنے رب کا انکار ہے۔ حالانکہ اسے موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کی صحت کا یقین تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ﴿ قَالَرَبُّالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِوَمَابَیْنَهُمَا ﴾”آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے سب کا مالک ہے۔“ یعنی جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو پیدا کیا اور مختلف تدابیر کے ذریعے سے ان کا انتظام کیا اور مختلف طریقوں سے ان کی تربیت کی۔ اے مخاطب لوگو! تم کائنات اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے کا کیونکر انکار کر سکتے ہو؟ ﴿ اِنْكُنْتُمْمُّوْقِنِیْنَ﴾”اگر تم یقین رکھتے ہو۔“ فرعون نے تکبر اور تعجب کرتے ہوئے اپنی قوم سے کہا: ﴿اَلَاتَ٘سْتَمِعُوْنَ ﴾”کیا تم سنتے نہیں “ کہ یہ شخص کیا کہتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال فرعونُ وما ربُّ العالمينَ}: وهذا إنكارٌ منه لربِّه ظلماً وعلوًّا، مع تيقُّن صحة ما دعاه إليه موسى، {قال ربُّ السمواتِ والأرض وما بينَهما}؛ أي: الذي خَلَقَ العالم العلويَّ والسفليَّ، ودبَّره بأنوع التدبير، وربَّاه بأنواع التربية، ومن جملة ذلك أنتم أيُّها المخاطبون؛ فكيف تنكِرونَ خالقَ المخلوقات وفاطرَ الأرض والسماواتِ، {إنْ كنتُم موقِنينَ}، فقال فرعون متجرهماً ومعجباً لقوله: {ألا تستمعونَ}: ما يقوله هذا الرجل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔