تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بستی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نازل نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انھیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں، انھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، انھیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں، وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں۔ ﴿ذِكْرٰى ﴾”نصیحت“ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لیے یاددہانی اور ان کے خلاف حجت قائم کرنا ہے ﴿ وَمَاكُنَّاظٰلِمِیْنَ ﴾”اور ہم ظلم کرنے والے نہیں۔“ کہ ہم بستیوں کو ان کے انجام سے ڈرائے بغیر ہلاک کر دیں، ان کو پکڑ لیں اور ان کی حالت یہ ہو کہ انھیں ڈرانے والوں کے بارے میں کچھ خبر نہ ہو۔ ﴿ وَمَاكُنَّامُعَذِّبِیْنَحَتّٰىنَبْعَثَرَسُوْلًا ﴾ (بنی اسرائیل:17؍15) ”اور ہم عذاب نہیں دیتے جب تک کہ حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے ایک رسول نہ بھیج دیں۔“﴿ رُسُلًامُّبَشِّ٘رِیْنَوَمُنْذِرِیْنَلِئَلَّایَكُوْنَلِلنَّاسِعَلَىاللّٰهِحُجَّةٌۢبَعْدَالرُّسُلِ ﴾ (النساء:4؍165) ”تمام رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يُخبرُ تعالى عن كمالِ عدلِهِ في إهلاك المكذِّبين، وأنَّه ما أوقع بقريةٍ هلاكاً وعذاباً إلاَّ بعد أن يُعْذِرَ منهم، ويبعثَ فيهم النُّذُرَ بالآيات البيناتِ، فيدعونهم إلى الهدى، وينْهونهم عن الردى، ويذكِّرونَهم بآيات الله، وينبِّهونَهم على أيَّامِهِ في نعمه ونقمه. {ذكرى}: لهم وإقامة حُجَّة عليهم، {وما كنَّا ظالمين}: فنهلكَ القرى قبل أن نُنْذِرَهم ونأخُذَهم وهم غافلون عن النُّذُر؛ كما قال تعالى: {وما كُنَّا معذِّبينَ حتى نبعثَ رسولاً}، {رسلاً مبشِّرينَ ومنذِرينَ لئلاَّ يكونَ للناس على اللهِ حُجَّةٌ بعد الرسل}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔