تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَفَرَءَیْتَاِنْمَّتَّعْنٰهُمْسِنِیْنَ﴾”بھلا دیکھو تو اگر ہم ان کو برسوں فائدے دیتے رہیں۔“ یعنی کیا آپ نے کچھ غورکیا کہ اگر ہم ان پر جلدی عذاب نازل نہ کریں اور ان کو چند سالوں کے لیے مہلت دے دیں اور یہ دنیا سے فائدہ اٹھائیں ﴿ ثُمَّجَآءَهُمْمَّاكَانُوْایُوْعَدُوْنَ﴾”پھر ان پر وہ واقع ہوجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔“ یعنی عذاب کا۔ ﴿ مَاۤاَغْنٰؔىعَنْهُمْمَّاكَانُوْایُمَتَّعُوْنَ﴾”جن (لذات و شہوات) سے وہ متمتع ہوتے تھے، وہ ان کے کسی کام نہ آئیں گی۔“ یعنی کون سی چیز ان کے کام آ سکتی اور انھیں کوئی فائدہ دے سکتی ہے؟ دراں حالیکہ لذتیں باطل اور مضمحل ہو کر ختم ہو گئیں اور اپنے پیچھے برے اثرات چھوڑ گئیں اور انھیں طویل مدت تک کئی گنا عذاب دیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ وہ وقوع عذاب اور اس کے مستحق ہونے سے بچیں اور رہا عذاب کا جلدی نازل ہونا یا اس کے نزول میں تاخیر ہونا تو اس کے تحت کوئی اہمیت ہے نہ اس کے نزدیک اس کا کوئی فائدہ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أفرأيتَ إن مَتَّعْناهم سنينَ}؛ أي: أفرأيت إذا لم نستعجِلْ عليهم بإنزال العذاب وأمْهَلْناهم عدَّةَ سنين يتمتَّعون في الدُّنيا، {ثم جاءَهُمْ ما كانوا يوعَدونَ}: من العذاب، {ما أغنى عنهم ما كانوا يُمَتَّعونَ}: من اللذَّاتِ والشَّهواتِ؛ أي: أيُّ شيءٍ تغني عنهم وتفيدُهم، وقد مضت وبطلتْ واضمحلَّتْ، وأعقبتْ تَبَعاتها، وضوعفَ لهم العذاب عند طول المدَّةِ. القصدُ أنَّ الحذر من وقوع العذاب واستحقاقهم له، وأما تعجيله [أو] تأخيره؛ فلا أهميَّةَ تحتَه، ولا جدوى عنده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔