تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الشعراء (26) — آیت 204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
تو کیا وہ ہمارا عذاب ہی جلدی مانگتے ہیں۔ En
تو کیا یہ ہمارے عذاب کو جلدی طلب کر رہے ہیں
En
پس کیا یہ ہمارے عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَفَبِعَذَابِنَا۠ کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے۔ جو بہت بڑا اور دردناک عذاب ہے جسے ہیچ سمجھا جا سکتا ہے نہ حقیر جانا جا سکتا ہے ﴿ یَسْتَعْجِلُوْنَ۠ جلدی مچاتے ہیں؟ کس چیز نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے؟ کیا اس عذاب کو برداشت کرنے کی ان میں قوت اور طاقت ہے؟ جب یہ عذاب نازل ہو جائے گا تو کیا یہ اس کو دور کرنے یا اس کو اٹھا لینے کی قوت رکھتے ہیں … یا یہ ہمیں عاجز سمجھتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ ہم عذاب نازل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {أفبِعذابِنا}: الذي هو العذاب الأليم العظيم الذي لا يُستهانُ به ولا يُحْتَقَرُ {يستعجلونَ}؟! فما الذي غرَّهم؟! هل فيهم قوَّةٌ وطاقةٌ للصبر عليه؟! أم عندهم قوةٌ يقدرونَ على دفعه أو رفعِهِ إذا نزل؟! أم يُعْجِزوننا ويظنُّون أنَّنا لا نقدر على ذلك؟!