تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اَصْحٰؔبُلْـَٔیْكَةِ ﴾ یعنی گنجان درختوں والے باغات میں بسنے والے، مراد اصحاب مدین ہیں انھوں نے اپنے رسول حضرت شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا۔ شعیب علیہ السلام بھی وہی دعوت لے کر آئے تھے جو دیگر انبیاء و مرسلین لے کر آئے تھے۔ ﴿اِذْقَالَلَهُمْشُعَیْبٌاَلَاتَتَّقُوْنَ ﴾”جب شعیب نے انھیں کہا، تم ڈرتے کیوں نہیں؟“ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہ تم کفر اور معاصی کو چھوڑ دو جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں۔ ﴿ اِنِّیْلَكُمْرَسُوْلٌاَمِیْنٌ﴾”میں تمھارے لیے امانت دار رسول ہوں۔“ اور اس پر یہ چیز مترتب ہوتی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أصحابُ الأيكة؛ أي: البساتين الملتفَّة الأشجار ، وهم أصحابُ مَدْيَنَ، فكذبوا نبيَّهم شُعيباً الذي جاء بما جاء به المرسلونَ. {إذْ قال لهم شعيبٌ ألا تَتَّقونَ}: الله تعالى فتترُكونَ ما يُسْخِطُه ويُغْضِبُه من الكفر والمعاصي، {إنِّي لكم رسولٌ أمينٌ}: يترتَّب على ذلك أن تتَّقوا الله، وتُطيعونِ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔